یوم شہداء کے موقعہ پر کرفیو اور بندشین، شہدا کی توہین و تزلیل کے مترادف

سرینگر/13جولائی2015/13 جولائی1931 ؁ء کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان نے اس خونین سانحہ کو کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کا رسم افتتاح قرار دیا۔ انجمن شرعی کے ترجمان نے کہا کہ ریاست کی ہند نواز جماعتیں ان شہداء کے نصب العین کو محدود کرنے کی بھارت نواز حکمت عملی پر گامزن ہیں۔ اور یہ جماعتیں شخصی آمریت کے خاتمے کو ہی ریاستی عوام کے تمام مصائب کا حل قرار دیتے ہوئے ریاست پر بھارت کے جابرانہ تسلط کو سند جواز فراہم کرنے کی سعی ناکام کررہی ہے۔ترجمان نے کہا کہ 1931 کے شہدا کی قربانیوں نے اگر چہ ریاست سے شخصی آمریت کا خاتمہ کیا لیکن ریاست میں حقیقی معنوں میں جمہوریت کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا بلکہ 1947 میں بھارت کے فوجی قبضے نے کشمیری قوم کو شخصی آمریت سے بھی بد تر عذاب و عتاب میں مبتلا کیا۔ ترجمان نے یوم شہدا کے موقعہ پر شہر سرینگر میں کرفیو کے نفاذ ، نقش بند صاحب جانے والے سبھی راستوں کی شدید ناکہ بندی دسیوں لاکھ لوگوں کو گھروں میں محسور کرنے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی اور دیگر مزاحمتی قائدین کی خانہ نظر بندی کی پُر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ 13 جولائی 1931 کے شہدا کی قربانیاں قوم کشمیر کا سرمایہ افتخار ہے۔ ان شہدا نے کسی خاص جماعت کی اجارہ داری کیلئے قربانیاں نہیں دی۔ریاستی انتظامیہ کی طرف سے کسی بھی طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کو ان شہدا کو خراج عقیدت ادا کرنے پر قدغن بذات خود ان شہیدوں کی توہین و تزلیل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔