گورنر انتظامیہ کی جانب سے وادی کشمیر میں شراب خانے کھولنے کی کوششیں، آغا سید حسن نے شدید رد عمل کا اظہار کردیا

(بڈگام) جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر، حجۃ الاسلام والمسلمین آگا سید حسن الموسوی الصفی نے جموں کشمیر کے گورنر کی جانب سے وادی کشمیر میں مزید شراب خانے کھولنے کی کوششوں پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اس طرح کے اقدامات کو کشمیری مسلمانوں کے خلاف ایک گہری سازش قرار دے دیا۔

مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا سید حسن نے کہا کہ ایک طرف حکومت عبادت گاہوں کو بند کررہی ہے جبکہ دوسری طرف شراب خانے کھولنے کی سازش میں لگی ہوئی ہے۔

آغا سید حسن نے مرکزی جامع مسجد سرینگر میں مسلسل تین سالوں سے نماز پر پابندی کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر جو ایک صوفیوں کا مرکز ہے وہاں پر حکومت اب گہری سازش کے تحت مسجدوں پر پابندی لگا رہی ہے اور جموں کشمیر کے جوانوں کو تباہ و برباد کرنے کے لیئے شراب خانے کھولنے کی ناپاک سازش کررہی ہے جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔

واضح رہے کہ جموں کشمیر کی گورنر انتظامیہ نے ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئے جموں کشمیر کے مختلف علاقوں میں شراب خانے کھولنے کے لیئے کہا ہے جس کے خلاف پورے جموں کشمیر میں سخت ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔

https://fb.watch/boHKDv9dd1/

https://fb.watch/boGefV6UBm/

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔