گاو ٔ کشی سے متعلق ریاستی ہائی کورٹ کی رولنگ پرآغاسید حسن کا شدید رد عمل

سرینگر/10ستمبر2015/ گاو ٔ کشی سے متعلق ریاستی ہائی کورٹ کی رولنگ پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے واضح کیا ہے کہ مسلمان حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے حوالے سے قرآنی تعلیمات اور اسوہ ٔ رسول کے سوا کسی اور قانون یا نظریے کے پابند نہیں بنائے جاسکتے۔ ہائی کورٹ کی رولنگ کو مذہبی آزادی کے منافی قرار دیتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ ریاستی ہائی کورٹ کی اس رولنگ کے پس پشت بھارت کی موجودہ حکومت کا عمل دخل ہے جو ہر معاملے میں ہندو فرقہ پرست جماعت RSS کے نظریات کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی سرکار بھارت کی بچی کچی سیکولر حیثیت کے خاتمے پر بضد ہے اور بھارت کو مکمل طور پر ایک ہندو ریاست بنانے کے منصوبے عملائے جارہے ہیں۔ آغا صاحب نے کہا کہ ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے عقیدے کے تناظر میںاختیار ہے کہ وہ کس چیز کو پسند کرے اور کس چیز سے اجتناب کرے۔ جمہوری نظام میں اس حوالے سے کسی زور و زبردستی کی گنجائش نہیں۔آغا صاحب نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر میں جو کسی بھی طور پر بھارت کا قانونی حصہ نہیں میں گاو 191 کشی سے متعلق قانون کا نفاذ نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ یہاں کی مسلم اکثریت کے دینی تشخص اور عقائد کو للکارنے کے مترادف ہے۔

35 thoughts on “گاو ٔ کشی سے متعلق ریاستی ہائی کورٹ کی رولنگ پرآغاسید حسن کا شدید رد عمل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔