کولگام میں بھارتی فورسزکی انتقام گیرانہ بربریت آغا سید حسن کا شدید ردعمل

سرینگر23جون2015/ ریڈون کولگام میں حریت پسند عساکر کے ساتھ تصادم آرائی کے بعد بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے عوام کو انتقام گیرانہ بربریت کا نشانہ بنانے اور ایک نہتے شہری کو ابدی نیند سلانے کی کاروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا ہے کہ مۂلہ کشمیر کی68 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ کشمیریوں کی برحق جدوجہد کے خاتمے کیلئے بھارت کے ظالمانہ حربے اس محکوم قوم کے حریت پسند جذبات اور مستقبل سازی کے خواہشات کو آج تک متزلزل نہیں کرسکے اور نہ مستقبل میں جبر و تشدد کے حربے رواں جدوجہد کا رخ موڑ سکتے ہیں۔ آغا صاحب نے کولگام میں مسلح تصاد م آرائی کے بعد بھارتی فورسزکے رویہ کو انتہائی غیر انسانی اور ضوابط سے عاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کی مارپیٹ ، مکانوں ، دکانوں اور گاڑیوں کی وسیع پیمانے پر توڑ پھوڑ سراسر ایک بزدلانہ روش ہے جس سے دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کی دعوے دار مملکت کے فوج اور دیگر سیکورٹی اداروں کی اعتباریت کی قلعی کھل جاتی ہے۔

بھارتی فورسز ریاست جموں و کشمیر میں 25 سال سے یہی تاریخ دہرا رہی ہے۔ عساکر کے ساتھ ہر تصادم آرائی کے بعد عام لوگوں کو نشانہ بنانا فورسز کی دیرینہ روایت ہے۔

آغا صاحب نے فورسز کی انتقام گیرانہ بربریت کے خلاف احتجاج کرنے والے عوام پر فائرنگ کے نتیجے میں شہید کئے گئے شہری آصف احمد تانترے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت و تسلیت کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہدائے کشمیر کی قربانیوں کی حفاظت اور ان کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے جدوجہد کے تسلسل کو بہر صورت جاری رکھا جائے گا۔

دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے ریاستی وزیر کے محافظوں کے ہاتھوں گریٹر کشمیرسے وابستہ سیئر صحافی جاوید احمد ملک اور ان کی اہلیہ کے ساتھ حد درجہ بدسلوکی اور مارپیٹ کو گنڈا گردی اور نشہ اقتدار کا بدترین مظاہرہ قرار دیتے ہوئے اس واقعے کی پُرزور الفاظ میں مذمت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔