کرناٹک میں حجاب پر پابندی کا معاملہ، آغا سید حسن نے شدید برہمی کا اظہار کردیا

(بڈگام)  جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ریاست کرناٹک میں مسلم طالبات کے حجاب پر پابندی پر شدید برہمی کیا اور حکومت کے اس اقدام کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اس کو حکومت کی سازش قرار دے دیا اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس حکمنامے کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور مسلم لرکیوں کو اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ آزادانہ طور پر اسکولوں اور کالجوں میں بغیر کسی خوف و ہراس کے آکر تعلیم حاصل کرسکیں۔

بڈگام کی مرکزی امام بارگاہ میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے آغا سید حسن نے کہا کہ مسلم خواتین پر حجاب واجب ہے اور یہ ایک دینی فریضہ ہے جسے کسی بھی صورت میں نہیں چھوڑا جاسکتا اور حکومت کی جانب سے اس میں مداخلت، دین میں مداخلت ہے جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔

آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے مزید کہا کہ مسلم خواتین کو اس بات پر مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ حجاب کو ترک کریں اور نہ کسی کو اس طرح کی بات کرنے کا حق حاصل ہے۔

آغا سید حسن نے کرناٹک کی بہادر لڑکی مسکان خان جس نے درجنوں بھگوا دہشت گردوں کے سامنے اللہ اکبر کی آواز بلند کرکے اپنی بہادری اور دلیری کا ثبوت دیا کی زبردست تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک مسلمان لڑکی جب اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اللہ اکبر کی آواز بلند کرتی ہے اور درجنوں غنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہے اس سے پتہ چلتا ہیکہ ایمان کی طاقت کیا ہے اور اس لڑکی نے جو کارنامہ انجام دیا وہ قابل تعریف ہے اور ہم اس کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ منگل کو ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں بی کام سیکنڈ ایئر کی طالبہ مسکان خان کو بھگوا دہشت گردوں کی جانب سے اپنے کالج میں ہراسانی کا سامنا کرتے دیکھا جا سکتا ہے، اور اس نے درجنوں غنڈوں کا مقابل کرتے ہوئے اللہ اکبر کی آوازیں بلند کیں جسے دنیا بھر میں سراہا جارہا ہے۔

زعفرانی شالیں لہراتے سینکڑوں دہشت گرد طالب علموں کا گروہ، جے شری رام کے نعرے لگاتا انہیں ہراساں کرتا ہے جس کے جواب میں وہ طالبہ اللہ اکبر کے نعرے لگاتی ہے اور مقامی زبان میں کہتی ہے کیا ہمیں حجاب پہننے کا حق حاصل نہیں ہے؟

واضح رہے کہ کرناٹک میں گذشتہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے کئی کالجوں میں حجاب پر طالبات اور انتظامیہ کے درمیان اختلاف جاری ہے اور یہ معاملہ اب ہائی کورٹ میں پہونچ چکا ہے، لیکن بھگوا دہشت گرد کالج میں داخل ہوکر مسلم طالبات کو ہراساں کرتے ہیں اور انہیں حجاب اتارنے پر مجبور کرتے ہیں جس کے خلاف اب دنیا بھر سے آوازیں بلند ہورہی ہیں اور اس طرح کے اقدامات کو بھارتی آئین کی کھلے عام خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔