مولانا کلب جواد کے حالیہ بیان پر آغا سید حسن الموسوی الصفوی کادندان شکن جواب

(بڈگام) حکومت کی جانب سے جموں کشمیر میں وقف بورڈ بنانے پر مولانا کلب جواد کی مسلسل حمایت اور ان کی جانب سے صدائے حسینی کے ایڈیٹر کودیئے گئے حالیہ انٹرویو پر جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی  نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں زمینی حقائق سے مکمل جانکاری حاصل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی جانب سے دیئے گئے دندان شکن جواب کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

 بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلْكَٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اے ایمان والو! مومنین کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔

جب سے جموں کشمیر سے دفعہ ۳۷۰ اور ۳۵ اے کو ختم کیا گیا ہے تب سے حکومت کے ایجینٹ، مسلسل کشمیر کے دینی مسائل میں مداخلت کررہے ہیں اور کشمیر کے شیعوں کی حمایت کے جھوٹے دعوے کررہے ہیں جو زمینی حقائق سے بہت دور ہیں، اِنہیں افراد میں سے ایک، مولانا کلب جواد بھی ہیں جو کشمیر میں شیعہ وقف بورڈ بنانے کے لیئے مسلسل کوشش کررہے ہیں جبکہ ان کی جانب سے جموں کشمیر کے ناکام دورے بھی کیئے گئے جن کا کشمیر کے شیعوں نے مکمل بائیکاٹ بھی کیا لیکن مولانا کلب جواد کو شایدیہ بات ابھی تک سمجھ میں نہیں آئی کہ کشمیری عوام ان سے شدید نفرت کرتی ہے اور ان کے ناپاک عزائم کو کشمیر میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

مولانا کلب جواد، جو مکمل طور پر  بی جے پی اور آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں انہیں شاید یہ معلوم نہیں کہ کشمیر کی اوقاف پراپرٹی نہ ہی راجا مہاراجاوں کی جانب سے دی گئی خیرات ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے کشمیر کے شیعوں کو دیا گیا کوئی تحفہ،بلکہ کشمیر کا اوقاف، خود کشمیری عوام نے دینی اور مذہبی امور کے لیئے وقف کیا ہے اور اس کے لیئے متولی بھی معین کیئے ہوئے ہیں جو بہترین انداز میں کشمیر کی اوقاف پراپرٹی کو دینی امور کی انجام دہی میں استعمال کررہے ہیں۔

ہم مولانا کلب جواد کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ وہ حکومت کی نمائندگی کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ دینی تعلیم بھی حاصل کرلیں جس کے بعد شاید انہیں وقف کے مسائل سے بھی کچھ آشنائی حاصل ہوجائے گی، کیونکہ فقہ جعفریہ میں اسلامی موقوفات کو کسی غیر مسلم حکومت کی تحویل و نظامت میں دینا فعل حرام اور ممنوع عمل ہے اور کسی بھی شخص یا حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ متولی کی اجازت کے بغیر اوقاف میں کسی بھی قسم کی مداخلت کرے یا کسی قسم کا کوئی بورڈ تشکیل دے، اور نہ ہی کسی کو یہ حق حاصل ہیکہ وہ متولی کو تبدیل کرے یا اس پر کسی قسم کا دباو ڈالے۔

مولانا کلب جواد کو یہ بھی بتانا ضروری ہیکہ شریعت نے موقوفات کی تولیت اور انتظام و انصرام کے معاملے میں جو رہنما خطوط مرتب کئے ہیں ان پر عمل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے، لہٰذا مولانا موصوف کو چاہیئے کہ وہ حکومت کو خوش رکھنے اور اپنے ذاتی مفادات کی خاطر، دین اسلام کے قوانین کا مذاق نہ اڑائیں اور اس طرح کی اسلام دشمن پالیسیوں سے باز آجائیں ورنہ  ان سے نفرت میں مزید اضافہ ہوگا۔

ہم آخر میں مولانا کلب جواد کو یہ مشورہ دینا چاہتے ہیں کہ وہ کشمیر کے اوقاف کی فکر نہ کریں بلکہ یوپی میں جو شیعہ وقف بورڈ کی حالت ہے اس پر توجہ دیں کیونکہ یوپی کے شیعہ وقف بورڈ پر اس وقت مرتد اور اسلام دشمن افراد کا قبضہ ہوچکا ہے جبکہ مولانا کلب جواد ، جو اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ شیعوں کی حمایت اور ان کی بہتری کے لیئے کام کررہے ہیں وہ سراسر جھوٹ ہے اور حکومت ان کا استعمال کررہی ہے، کیونکہ اگر حکومت ان کے ساتھ ہوتی تو یوپی کے شیعہ وقف بورڈ میں ہونے والے الیکشن میں انہیں ذلت آمیز شکست نصیب نہ ہوتی اور وسیم رضوی مرتد شیعہ وقف بورڈ میں ممبر نہ بن پاتا۔

وسیم رضوی مرتد کا یوپی کے شیعہ وقف بورڈ میں ممبر بننا اور مولانا کلب جواد کے حمایت یافتہ شخص کا الیکشن ہارنا اس بات کی واضح دلیل ہیکہ مولانا کلب جواد، صرف اور صرف حکومت کا ایک مہرہ ہیں جن کا حکومت استعمال کررہی ہے اور وہ حکومت کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔

مولانا کلب جواد یاد رکھیں کہ کشمیری عوام کسی بھی صورت میں ان کی ناپاک حرکتوں کو معاف نہیں کرے گی اور ان کی جانب سے کی گئی ہر سازش کا منہ توڑ جواد دیتی رہے گی اور جب بھی اسلام کے خلاف کسی قسم کی کوئی حرکت کی گئی تو کشمیر کے شیعہ احتجاج و مزاحمت کرتے ہوئے اپنے حقوق اور دینی حدود کا دفاع کریں گے۔

فی الحال کشمیر میں وقف بورڈ کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کا اس کا اختیار حاصل ہے، اور اگر کشمیر کے اوقاف کے متولیوں کو ایسا محسوس ہوا تو وہ خود بہتر طریقے سے اس کام کو انجام دیں گے اور اس معاملے میں کسی بھی باہر کے شخص کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ حکومت کے ناپاک عزائم کو پورا کرنے کے لیئے دینی معاملات میں مداخلت کرے اور اگر کوئی بھی شخص ایسا کرتا ہے تو اسے کشمیری عوام کی نفرت اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى

آغا سید حسن الموسوی الصفوی، صدر جموں و کشمیرانجمن شرعی شعیان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔