ملکی معیشت اور اقتصاد کو غیر ملکی تحولات سے نہیں جوڑنا چاہیے

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ہفتہ حکومت کی مناسبت سےصدر اور کابینہ کے اراکین سے براہ راست خطاب میں شہید رجائی اور شہید باہنر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا: ملکی پیداوار میں مشکلات کو برطرف کرنا چاہیے کیونکہ ملکی پیداوار میں اکثر رکاوٹیں اور مشکلات ملک کے اندر موجود ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے موجودہ کابینہ کے آخری سال کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا: حکومت کا آخری سال مختلف جہات سے اہم ہے۔ حکومت کے آخری سال کی ایک اہمیت یہ ہے کہ حکومت کے پاس عوام کو خدمات فراہم کرنے کی مدت ایک سال رہ گئی ہے۔ عوامی خدمات کا یہ آخری موقع ہے ملک، قوم، اللہ تعالی اور اسلام کے لئے کام کرنا بہت ہی اہم ہے یہ تصور غلط ہے کہ ایک سال کے عرصہ میں کیا کرسکتے ہیں ایک سال کا عرصہ بہت بڑا عرصہ ہوتا ہے اور اس عرصہ میں بہت سے کام کئے جاسکتے ہیں۔ آنے والی حکومت کے لئے کچھ اساسی اور بنیادی کام انجام دیں تاکہ آپ کا نام نیکی کے ساتھ یاد کیا جائے۔

پیداوار کا مسئلہ ملک کا کلیدی اور اساسی مسئلہ ہے پیداوار کا روزگار کی فراہمی، ملکی معیشت ، مہنگائی پر کنٹرول پانے اور قومی کرنسی کی قدر میں اضافہ کے سلسلے میں اہم کردار ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسلح افواج اور وزارت دفاع میں خاطر خواہ پیشرفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: وزارت دفاع میں بہترین کام انجام پذیر ہوا ہے ۔ وزارت دفاع پیداوار کے سلسلے میں اہم پارٹ اور قطعات پیداوار کے شعبہ میں فراہم کرنے کے لئے آمادہ ہے۔ باہمی تعاون سے ملکی پیداوار کو فروغ دینا چاہیے اور پیداوار کی راہ میں حائل تمام رکاٹوں کو برطرف کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے معاشرے کی مدیریت کے سلسلے میں مختلف مکاتب بشری ،خاص طور پر امریکہ کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: امریکہ میں انسانی اقدار، انصاف اور سلامتی کو سب سے زيادہ پامال کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں طبقاتی فاصلہ وحشتناک ہے ۔ امریکہ میں فقیروں اور بے روزگار اور بےگھر افراد کی تعداد دنیا کے کئي ممالک کی نسبت سب سے زیادہ ہے۔

امریکی انتخاباتی کارزار میں شریک شخص کے اعلان کے مطابق امریکہ میں ہر پانچ بچوں میں سے ایک بچہ بھوکا سوتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ میں بد امنی اور جرائم کے اعداد و شمار بہت زيادہ ہیں۔

امریکہ کے وحشیانہ اور ہولناک جرائم کی داستانیں ہیرو شیما، ویتنام سے لیکر شام، عراق، یمن، فلسطین، اورافغانتسان تک پھیلی ہوئی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: معاشرے کی مدیریت کے سلسلے میں اسلام نے جامع نظام اور سسٹم پیش کیا ہےیہ سسٹم ایمان، علم اور انصاف پر مبنی ہے اور ایرانی حکام کو چاہیے کہ وہ عملی طور پر اس سسٹم کو دنیا کے سامنے پیش کریں کیونکہ مختلف بشری مکاتب معاشرے کے نظم و نسق اور مدیریت میں ناکام ہوگئے ہیں اور اسلام کا نظام ایمان ، علم و انصاف کی بنیادوں پر معاشرے کی بہترین خدمت کرسکتا ہے یہ نظام الہی اصولوں اور انبیاء (ع) کی تعلیمات اور رفتار پر مشتمل ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایران کے اسلامی انقلاب کے ساتھ دشمنوں کی عداوت کی اصلی وجہ بھی یہی ہے وہ اسلامی نظام کے فروغ سےسے خوفزدہ ہیں ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حضرت علی علیہ السلام کے قول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر مؤمنین ایک دوسرے کا تعاون نہیں کریں گے تو شکست سے دوچار ہوجائیں گے اور یہ بشریت اور تمام مؤمنین کے لئے درس ہے آج دشمن اسلام کے خلاف مسلسل منصوبہ بندی کررہا ہے ہمیں بھی دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری میں طبی پروٹوکول کی رعایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حسینی عزاداروں کی طرف سے کورونا وائرس کو شکست دینے کے سلسلے میں تعاون قابل تعریف اور قابل قدر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔