غیر ریاستی باشندوں کو جموں و کشمیر میں ووٹر بنانے کا فیصلہ نا قابل قبول، میر واعظ کی خانہ نظر بندی سے متعلق ایل جی کا بیان حقائق سے بعید آغا حسن

بڈگام/ لاکھوں کی تعداد میں غیر ریاستی باشندوں کو جموں و کشمیر میں ووٹر بنانے کے فیصلے کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اس غیر آئینی اور غیر جمہوری فیصلے کو جموں و کشمیر کے عوام کے لئے لمحہ فکریہ اور پوری دنیا کے لئے چشم کشا قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ریاستی عوام کے تشخص حقوق اور مستقبل کو مخدوش بنانے اور ریاست کی ڈموگرافی تبدیل کرنے کی سب سے بڈی منصوبہ بندی ہے۔

آغا صاحب نے کہا کہ 25 لاکھ غیر ریاستی باشندوں کو جموں و کشمیر میں ووٹ دینے کے حق کے بعد اس ریاست میں انتخابات منعقد کرانا کوئی معنی اور اعتباریت نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ غیر ریاستی باشندوں کو یہاں ووٹر بنانے کا کوئی بھی جواز نہیں بی جے پی حکومت اس طرح کے مضحکہ خیز حربوں کا سہارا لیکر کشمیر میں انتخابی فوائد کے حصول کی کوشش کر رہی ہے۔

دریں اثنا آغا صاحب نے میر واعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کی متواتر خانہ نظر بندی سے متعلق ایل جی منوج سنہا کے بیان کو حقائق سے بعید قرار دیتے ہوئے کہا کہ میر واعظ کشمیر 3 سال سے متواتر خانہ نظر بند ہے اور انہیں کسی بھی دینی سماجی یا فلاحی پروگرام میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

آغا صاحب نے کہا کہ اگر ایل جی صاحب کا بیان حق گوئی پر مبنی ہے تو اگلے جمعہ کو دیکھا جائے گا کہ کیا واقعی میر واعظ کشمیر مرکزی جامعہ مسجد میں آکر نماز جمعہ کی پیشوائی کرسکیں گے.

One thought on “غیر ریاستی باشندوں کو جموں و کشمیر میں ووٹر بنانے کا فیصلہ نا قابل قبول، میر واعظ کی خانہ نظر بندی سے متعلق ایل جی کا بیان حقائق سے بعید آغا حسن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔