ظلم و تسلط سے نجات کیلئے اتحاد برسر جدوجہد محکوم مسلمانوں کی ناگزیر ضرورت

سرینگر/18ستمبر2015/ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی اور غیر حقیقت پسندانہ موقف کو سامراجی مزاج کا کھلا مظاہرہ قراردیتے ہوئے جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا ہے کہ دو جوہری ہمسایوں کے درمیان جو اپنے قیام کے ابتداءسے ہی ایک دوسرے کے روایتی حریف رہے ہوں باہمی تنازعات کا پُر امن حل ان کے وجود کی حفاظت کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ مرکزی امام باڑہ بڈگام میں بھاری جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ تنازعہ کشمیر ایک مسلمہ سیاسی حقیقت ہے جس کو ظلم و تشدد اور طاقت سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔ جنوب ایشیائی خطے کے بدلتے
سیاسی اور عسکری منظر نامے کے پیش نظر اس دیرینہ سیاسی تنازعہ کا سیاسی حل پہلے سے بھی زیادہ ضروری اور ناگزیر بن چکا ہے۔

آغا صاحب نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں محکوم مسلمان جابر قوتوں کے تسلط سے نجات کیلئے مصروف
جدوجہد ہیں حقوق البشر اور جمہوریت کے دعوے دار عالمی طاقتیں محکوم مسلمانوں کی حمایت کے بجائے ان پر مسلط ظالم قوتوں کا ساتھ نبھارہے ہیں۔ یہی حال محکوم کشمیری قوم کا بھی ہے ۔ کشمیریوں کے سیاسی مستقبل کے تعین کیلئے حق خود ارادیت کی قراردادیں پاس کرنے والا اقوام متحدہ ابھی تک اپنی قراردادوں پر عمل کروانے میں ناکام رہا ہے۔ ایسے حالات میں اتحاد و استقامت اور عزم مصمم کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنا تحریک اورحالات کا اہم تقاضا ہے۔ہمیں ایک پلیٹ فارم ، ایک پرچم تلے اور ایک نعرے کے ساتھ مصروف جدوجہد رہنا چاہیے۔ اس موقعہ پر آغا صاحب نے ایک بار پھر بڑے گوشت پر پابندی کے حوالے سے عدلیہ کے فیصلے کو مداخلت فی الدین سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ اسلامی شریعت کے منافی قوانین کے خلاف احتجاج اور مزاحمت ایک شرعی فریضہ ہے اور اس حوالے سے کشمیری قوم کسی مصلحت کی شکار نہیں ہوگی۔160 شریعت اسلامی سے متصادم قوانین مسلمانوں کو قابل قبول نہیں۔ آغا حسن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔