صدر انجمن شرعی شیعیان کشمیر کی جانب سے پیغام محرم الحرام

بڈگام/ محرم الحرم کی آمد کی مناسبت سے صدر انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر، حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی حفظہ اللہ نے قوم کے نام اہم پیغام جاری کیا ہے جس کا متن مندرجہ ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اسلامی سال کا ابتدائی مہینہ محرم الحرام سے شروع ہو رہا ہے جس کا ابتدائی عشرہ حق و باطل کے درمیان معرکہ آرائی کے حوالے سے ایک تاریخی اور تحریکی اہمیت کا حامل ہے محرم الحرام سنہ61ہجری یوم عاشورہ کو سرزمین کربلا پر حق و باطل کا وہ لامثال اور لافانی معرکہ رونما ہوا جس نے رہتی دنیا تک پرچم اسلام کو سربلند رکھا اور دنیا میں فتح و شکست کا ایک نیا معیار قائم کیا، نواسہ رسول حضرت امام حسین ؑ نے اپنے عزیز و اقارب اور اصحاب و انصار کو خدا کی راہ میں قربان کیا لیکن ایک فاسق و فاجر اور اسلامی اصولوں سے کھلواڑ کرنے والے حکمران یزید کی بیعت قبول نہیں کی، مطالبہ بیعت کے جواب میں سید الشہدا حضرت امام حسین ؑ نے فرمایا کہ مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا ،قسم بخدا میں عزت کی موت کو ذلت کی زندگی پر ترجیح دوں گا اور خود کو غلاموں کی طرح اس فاسق نظام کے حوالے نہیں کروں گا۔

ظاہر ہے کہ مولا حسین ؑ کو یزید کے جسمانی وجود سے کوئی نفرت نہیں تھی بلکہ یزید کے اس فاسق کردار اور خصائل سے جو اسلام و انسانیت کے لئے سم قاتل اور رسوا کن تھے یزید عملی طور پر اسلامی شریعت کا منکر تھا شراب خوری، نشہ بازی، بدکاری، خلق خدا پر مظالم، اخلاقی بے راہ روی، توہین قرآن و رسالت ؐ،حقوق سلبی اور حدود الٰہی سے اعلانیہ تجاوزات یزید کے کردار کے واضح پہلو تھے آج اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں گے تو ہر طرف یہی جرائم اور برائیاں سرایت کرچکی ہیں، ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ قیام امام حسین ؑ کا بنیادی مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تھا، حسینیت معروفات کے فروغ اور تحفظ کا نام ہے اور یزیدیت منکرات کی آبیاری کا نام ہے، حسینیت دین و انسانیت کی بقا کے لئے قربانیوں پر آمادہ کرتی ہے اور یزیدیت منصب و اقتدار کے لئے دین کو پامال اور دین داروں کو قتل کرنے کی ذہنیت کا نام ہے

کشمیر کی موجودہ پریشان کن صورتحال میں ہماری نوجوان نسل نشہ خوری کی طرف راغب ہو رہی ہے نوجوان طبقے کا منشیات کی طرف راغب ہونا وسیع تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے بلکہ نشہ خوری تمام برائیوں کی کنجی ہے اگر بروقت اس لعنت کےخاتمے کے لئے اجتماعی کوششیں نہیں کی گئیں تو ہمارا معاشرہ اندر ہی اندر سے کھوکھلا ہو کر رہے گا ، آئیے شہدائے کربلاؑ کی عظیم قربانیوں کو خراج نذر کرنے کے ساتھ ساتھ ان تمام سماجی برائیوں اور جرائم کے سد باب کے لئے فکری و عملی سطح پر اپنا کردار ادا کرنے کا تجدید عہد کریں۔

میری تمام واعظین اور ذاکرین سے گزارش ہے کہ مجالس عزا کے دوران ان منکرات کے سدباب کے لئے اپنی شرعی ذمہ داریاں ادا کریں ہر قسم کے حالات میں شریعت اسلامی اور حدود الٰہی کا پاس و لحاظ رکھیں، عزاداری اور دین داری لازم و ملزوم ہے عزادری کی مجالس اور جلوس ہائے عزا کے دوران ہر قدم پر شریعت کی پاسداری کو یقینی بنائیں،خداوند عالم ہمیں عاشورائے حسینی کے اہداف و مقاصد کی معرفت عطا کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔