شہید ملت، شہید حریت اور شہدائے حول کو آغا حسن کا شاندار خراج عقیدت

سرینگر/20مئی2015/ شہید ملت میر واعظ مولوی محمد فاروق ، شہید حریت خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کو ان کی برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے شہدائے کشمیر کے مقدس مشن کو پایہ تکمیل کو پہنچانے کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

آغا صاحب نے کہا کہ بھارت کے جابرانہ تسلط سے نجات کیلئے لاکھوں کشمیری نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بلند پایہ دینی وسیاسی قائدین ، علمی شخصیات اور مفکرین نے اپنے عزیز جانوں کو قوم کے مستقبل پر نچھاور کیا جو ہماری برحق اور باجواز تحریک کی عظمت ، اعتباریت اور حقانیت کو اور بھی واضح کرتی ہے۔آغا صاحب نے میر واعظ خانوادے کی بے مثال تحریکی و دینی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خانوادہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی حق خود ارادیت کا علم بردار بن کر ہر محاذ پر موثر کردار اور قربانیاں پیش کرتا چلا آیا ہے۔

اتحاد ملی کے حوالے سے میر واعظ خانوادہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ شہید ملت کی شہادت سے ریاست کے دینی حلقوں میں جو خلاءپیدا ہوا اس کے پُر ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔خواجہ عبدالغنی لون کو عقیدت کا خراج نذر کرتے ہوے کہا کہ لون صاحب قائدانہ صلاحیتوں ، دور اندیشی اور معاملہ فہمی کی ایک کھلی کتاب تھی۔ حریت کانفرنس میں شہید مرحوم کی کمی کو کافی دیر تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔

شہید ملت کے جلوس جنازہ پر بھارتی فورسز کی وحشیانہ فائرنگ کے سانحہ کو تاریخ کشمیر کے ایک خونی باب سے تعبیر کیا۔

آغا صاحب نے کہا کہ ظلم و تشدد کے بل پر عوامی تحریکوں کو دبانے کیلئے عوام کے قتل عام اور قائدین کو پابند سلاسل کرکے یاسزائے موت سنانے سے مظلوم اقوام کے مزاحمتی جذبات ختم نہیں کئے جاسکتے۔

یمن پر جاری سعودی جارحیت ، شیخ باقرالنمر اور مصر کے معزول صدر مرسی کی سزائے موت کو امریکہ کے مسلم کش ایجنڈے کی مختلف کڑیاں قرار دیتے ہوئے آغا حسن نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل دنیائے عرب میں اسلام نواز جمہوری تحریکوں کے خاتمے کو اپنے مفادات کیلئے ناگزیر تصور کررہے ہیںاور اپنی آلہ کارآمر حکومتوں کے استحکام کیلئے کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ نظر آرہے ہیں۔

حرمین شریفین پر حملوں کے شوشے کو امریکہ اور اسرائیل کے گیم پلان کا حصہ قرار دیتے ہوئے آغاصاحب نے کہا کہ سعودی عربیہ میں اپنے دیرینہ وفادار حکومت آل سعود کو زیادہ سے زیادہ دیر تک مسلط رکھنے کیلئے یمن میں ایک نیا محاذ کھول دیا گیا تاکہ دنیائے اسلام کو امریکہ اور اسرائیل کے ناپاک عزائم کے خلاف اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے اور ا س کے سد باب کیلئے عزیمت کی راہ اختیار کرنے والے اسلامی جمہوریہ ایران کیلئے پریشان کن حالات پیدا کئے جاسکیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام میں نہتے عوام کے قتل عام کی ذرا بھر گنجائش نہیں اور خادمین حرمین شریفین یمن میں جس بے دردی کے ساتھ نہتے مسلمانوں کے کشت و خون ریزی میں مصروف ہیں وہ دین اسلام کے آفاقی انسانیت اور حیات آفرین مشن کی بیخ کنی ہے۔دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے شہید ملت اور شہید حریت کی برسی کے موقعہ پر میر واعظ کشمیر مولوی محمد عمرفاروق اور دیگر حریت قائدین کی خانہ نظر بندیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔