سعودی عرب میں درجنوں شیعہ مسلمانوں کی گردن زنی کا سانحہ انسانیت سوز، سعودی حکومت ملک میں شیعیت کے وجود کے خاتمے کے لئے کوشاں ہے: آغا سید حسن

(بڈگام) سعودی عرب میں بیک وقت 80 سے زیادہ شیعہ مسلمانوں کے سر قلم کرنے کی سعودی حکومت کی سفاکانہ کاروائی کے خلاف شدیدرد عمل ظاہر کرتے ہوئے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے عالمی برادری بالخصوص انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ شیعیان سعودی عربیہ پر ڈھائے جا رہے انسانیت سوز مظالم کا سنجیدہ نوٹس لیں۔

آغا سید حسن نے کہا کہ سعودی عرب میں وہابی افکار و نظریات کی بالا دستی سے وہاں تمام مسلکی اقلیتیں غیر محفوظ ہو کر رہ گئی ہیں خاص طور پر وہاں کی شیعہ برادری اور شیعہ مسلک کا خاتمہ حکومت آل سعود کا ایک واضح اور ترجیحی مشن ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی پچاس لاکھ کے قریب شیعہ آبادی ابھی تک بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے، انہیں محصور کرکے رکھ دیا گیا ہے اور انہیں اپنے دینی مراسم کی اجازت نہیں جاتی حتیٰ کہ انہیں اعلانیہ طور پر اذان دینے کی بھی اجازت نہیں ہے، وہاں فرضی الزامات کے تحت ہزاروں شیعہ افراد کو زندانوں میں مقید کرکے رکھ دیا گیا ہے، اور درجنوں کی تعداد میں ان کی گردن زنی کی جا رہی ہیں۔

آغا صاحب نے تازہ ترین سانحہ میں شہید افراد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کا جرم اہلبیت نبوی ؐ سے محبت و مودت ہے اور ہم دنیا پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مظالم اور گردن زنی سے ڈر کر شیعیان عالم محمد و آل محمد ؐ کی محبت و عقیدت کے عقیدے سے کبھی بھی دست بردار نہیں ہوں گے۔

آغا سید حسن نے ان شہداء کے بلند درجات کی دعا کی اور لواحقین سے تعزیت و تسلیت کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی دہشت گرد وزارت داخلہ نے ہفتے کے روز اکیاسی افراد کو سزائے موت دئے جانے کی خبر دی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ ان افراد کو دہشتگردی میں ملوث ہونے اور منحرف و گمراہ کن عقائد رکھنے کے باعث سزا دی گئی ہے، جبکہ آل سعود مخالف تنظیموں اور مقتولین کے اہل خانہ آل سعود کے اس الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انکے پیاروں کو صرف اس لیے موت کی نیند سلا دیا گیا کہ وہ آل سعود کے ظلم و جبر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔