حکومت کی جانب سے متنازعہ حکمنامہ، آغا سید حسن نے شدید مذمتی بیان جاری کردیا

(بڈگام) حکومت کی جانب سے کشمیر میں کالج اور اعلیٰ تعلیمی محکمے سے متعلق ادارے نے ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ 14 جنوری 2022 کو مکر سنکرانتی کے تہوار کو منانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں اور آزادی کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سے امرت مہا اتسو تقریبات کے تحت بڑے پیمانے پر ورچوئل سوریہ نمسکار کا بھی انعقاد کیا جائے۔

اس آرڈر میں فیکلٹی اور طلبہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اس پروگرام کی جانب لوگوں کی توجہ مبذول کرائیں اور اس کی ٹیگ لائن "سوریہ نمسکار برائے حیات” ہونی چاہیے، اس میں کہا گیا کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام فیکلٹی ممبران اور طلبا اس پروگرام میں بھرپور حصہ لیں، جس پر جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مذمتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس طرح کے اقدامات سے ملک بھر میں تصادم کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

 انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہیکہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہیکہ صرف اور صرف خدا کے سامنے جھکنا چاہیئے جبکہ سوریہ نمسکار میں سورج کے سامنے جھکا جاتا ہے اور کوئی بھی مسلمان اس طرح کے اقدامات پر عمل نہیں کرے گا اور حکومت اس طرح کے احکامات صادر کرکے مسلمانوں کی تحقیر کرنا چاہتی ہے جو کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔

آغا سید حسن نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں میں سوریہ نمسکار جیسی ہندو مذہبی رسومات مسلط کرنا، کشمیری مسلمانوں کو ہرگز قابل قبول نہیں ہے اور اگر مودی حکومت انہیں اس بات پر مجبور کرتی ہے تو اس سے ان کی فرقہ وارانہ ذہنیت ظاہر ہوتی ہے۔

One thought on “حکومت کی جانب سے متنازعہ حکمنامہ، آغا سید حسن نے شدید مذمتی بیان جاری کردیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔