حضرت امام جواد ؑ کے یوم شہادت کی مناسبت سے اسکندر پورہ میں مجلس عزا، آغا حسن نے امام عالی مقام ؑ کی سیرت اور کردار و عمل کی وضاحت کی

بڈگام/ سلسلہ امامت کی نویں کڑی حضرت امام محمد تقی ؑ کے یوم شہادت کی مناسبت سے انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام اسکندر پورہ بیروہ بڈگام میں مجلس عزا منعقد ہوئی، مجلس عزا میں ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی جہاں دن بھر مرثیہ خوانی کا سلسلہ جاری رہا۔

اس موقعہ پر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے امام جواد محمد تقی ؑ کی سیرت کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی۔

آغا صاحب نے کہا کہ ائمہ ھدیٰ میں سے امام محمد تقی ؑواحد امام برحق ہیں جو صرف چھے سال کی عمر میں منصب امامت پر فائز ہوئے اور سب سے کم عمری میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے حکومت وقت نے امام محمد تقی  ؑکے والد بزرگوار امام علی الرضا ؑکوزہر دے کر شہید کیا اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہوئی کہ اب خانوادہ نبوت ؐ میں کوئی ایسی شخصیت موجود نہیں جس سے سلسلہ امامت آگے بڑھ سکے کیوں کہ امام محمد تقی ؑاپنے والد کی شہادت کے وقت صرف چھے سال کے تھے اپنے والد گرامی کی شہادت کے ساتھ ہی امام محمد تقی ؑنے اپنی امامت کا اعلان کیا حکومت وقت نے اس کمسن امام ؑ کو بڑے بڑے علماء کے ساتھ بحث و مناظرات میں الجھائے رکھا تاکہ امام عالی مقامؑ کو عاجز کر سکیں لیکن امام ؑ کی علمی عظمت کے آگے تمام علماے وقت سرنگون ہوگئے جو حکومت وقت کو کافی گراں گزرا، امام محمد تقی ؑ کو اپنی حکومت کے لئے شدید خطرہ تصور کرتے ہوئے حاکم وقت نے انہیں بھی زہر دلوا کر شہید کروایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔