انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے عید ولایت یوم الغدیر کی تقریبات، مرکزی امام باڑہ بڈگام میں آغا حسن نے فلسفہ عید الغدیر کی وضاحت کی

بڈگامعید غدیر کے موقع پر جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے وادی کے کئی مقامات پر خصوصی تقریبات کا انعقاد ہوا سب سے بڑی تقریب مرکزی امام باڑہ بڈگام میں منعقد ہوئی جہاں علمائے دین، حوزہ جامعہ باب العلم کے طلاب اور مکتبۃ الزہراء حسن آباد سرینگر کی طالبات نے پیغمبر اکرم ؐ کے خطبہ حجۃ الوداع کے مندرجات کے حوالے سے اظہار خیال کیا جن علماءِ دین نے واقعہ غدیر کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی ان میں انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی ،حجت الاسلام سید محمد حسین موسوی، حجت الاسلام سید یوسف الموسوی اور حجت الاسلام سید ذوالفقار جعفری شامل ہیں۔

علمائے دین نے ان محرکات پر تفصیلی روشنی ڈالی جن کی بنا پر حضور اکرم ؐ نے سوا لاکھ حجاج کرام کو میدان غدیر میں جمع ہونے کا حکم صادر فرمایا حالانکہ تمام حجاج اپنے اپنے علاقوں کی طرف روانہ ہونے کا ارادہ کرچکے تھے۔

انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے عید غدیر کی اہمیت اور عظمت بیان کرتے ہوئے کہا کہ تمام محدثین اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مقام غدیر پر آیت بلغ نازل فرمائی اور اپنے رسول ؐ کو واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر مسلمانوں تک اسی مقام پر وہ حکم نہ پہنچایا گیا جو پہلے ہی آپ ؐ پر نازل کیا جا چکا ہے تو گویا آپ نے رسالت کا کوئی کام ہی انجام نہیں دیا اور وہ حکم امیر المومنین علی ابن ابی طالب ؑ کی ولایت کا اعلان ہے۔

آغا صاحب نے کہا کہ اس آیت کے تیور اور انداز اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مذکورہ حکم اللہ تعالیٰ کے نزدیک پیغمبر اکرم ؐ کی 23 سالہ محنت و مشقت سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے، آغا صاحب نے کہا کہ ولایت کا صیح مفہوم قیادت اور حاکمیت ہے لیکن سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ولایت کو دوستی کا معنی دے کر منشور غدیر سے خیانت کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔