افسپا کے حوالے سے بھارتی وزیر داخلہ کا بیان منفی اور مایوس کن


سرینگر/3جولائی/2015/ ریاست جموں و کشمیر میں 25 سال سے نافذ آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ کو ہٹانے سے بھارتی وزیر داخلہ کے واضح انکار پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جموں کشمیر انجمن شرعی شییعان کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے افسوس ظاہر کیا کہ ریاستی ارباب اقتدار کی یقین دہانیوں کے باوجود حکومت ہند ریاستی عوام کے سروں پر لٹکتی ہوئی اس دو دھاری تلوار کو ہٹانے کیلئے آمادہ نہیں ہے۔



مرکزی امام باڑہ بڈگام میں بھاری جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئےجناب آغاسید حسن الموسوی الصفوی صاحب نے کہا کہ گزشتہ 25 سال کے مشاہدات ، تجربات اور واقعات و سانحات نے ثابت کردکھایا کہ ریاست جموں کشمیر میں افسپا جیسا سیاہ قانون مسلح جدوجہد کے خاتمے سے زیادہ عوام کے حریت پسند خواہشات اور جذبات کے خاتمے کیلئے لاگو ہے۔سال 2008 سے متواتر ریاستی ارباب اقتدار دکھاوے کے ایک عمل کے طور پر ہی سہی حکومت ہند کو حالات میں واضح سدھار کی یقین دہانیاں کرکے افسپا کی منسوخی کا مطالبہ دہراتے چلے آرہے ہیں لیکن دلی کسی بھی قیمت پر کشمیریوں کو اس حوالے سے راحت دینے کیلئے تیار نہیں۔ ریاست میں افسپا کی برقراری ریاستی عوام کے حریت پسند جذبات کے سامنے بھارت کی بے بسی کا کھلا ثبوت ہے۔



آغا صاحب نے کہا کہ مۂلہ کشمیر کے پُر امن حل کیلئے مذاکرات ایک واحد راستہ ہے۔ مذاکرات سے فرار کی راہ تلاشناایک منفی سوچ و اپروچ ہے۔ آغا صاحب نے واضح کیا کہ ریاست کی حریت پسند تنظیمیں سہ فریقی مذاکرات کو سب سے بہتر راہ حل تصور کرتی ہیں تاہم مذاکرات کیلئے کسی کے آگے جھولی پسارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔



دریں اثناآج وادی بھر میں انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے منعقدہ جمعہ اجتماعات کے دوران کویت ، یمن ، سعودی عربیہ ، تیونس اور دیگر مقامات پر ماہ مبارک کے دوران مساجد اور عزا خانوں میں ہوئے خود کش دھماکوں نے شہید روزہ داروں اور یمن میں سعودی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہوئے ہزاروں نہتے یمنی شہریوں کے ایصال ثواب کیلئے اجتماعی فاتحہ خوانی کی گئی۔ یمن کے مظلوم عوام پر جاری فضائی جارحیت اور وسیع پیمانے پر انسانی جانوں کے زیاں اور املاک کے بے پناہ نقصان پر عالمی برادری بالخصوص اسلامی ممالک کی تنظیم OIC کے تماشائی کے کردار کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔