آغا سید حسن کی دورہ ایران سے واپسی پر صدر دفتر پر اہم اجلاس

سرینگر/26اگست2015/ جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی تہران میں منعقدہ مجمع جہانی اہلبیتؑ کانفرنس میں شرکت کے بعد وطن لوٹ آئے۔ دورہ ایران سے واپسی پرصدر دفتر پرمنعقد اجلاس میں تازہ ترین سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے آغا صاحب نے NSA سطح پر پاک بھارت مذاکرات کی منسوخی کو ایک افسوس ناک واقعہ سے تعبیر کیا اور اس ضمن میں حکومت ہند کے رویے کو انتہائی مایوس کن قرار دیا۔ آغا صاحب نے کہا کہ بھارت نے ان منسوخ شدہ مذاکرات کے ایجنڈے کو محدود سے محدود تر کرکے امن عمل کے حوالے سے اپنی غیر سنجیدگی کا واضح مظاہرہ کیا۔ حکومت ہند پاکستان کے ساتھ تصفیہ طلب معاملات بالخصوص تنازعہ کشمیر کے پُرامن حل کے راستوں کو مسدود کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے اور تمام معاملات کواپنے مفادات کی عینک سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات اور امن و استحکام کا راستہ کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے۔ ہند پاک کے درمیان کسی بھی سطح کے مذاکرات میں کشمیرکو یک طرف رکھنا اور ریاست کی مزاحمتی قیادت کوالگ تھلگ کرنا بذات خود امن مذاکرات کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام مس 191لہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں جن کی فریقانہ حیثیت مسلمہ ہے جس کو دنیا کی کوئی بھی طاقت چلینج نہیں کرسکتی۔ حکومت ہند کشمیریوں کی فریقانہ حیثیت سے صرف نظر کرکے تنازعہ کشمیر کو ہند و پاک کے درمیان ایک سرحدی تنازعے میں تبدیل کرنے کی سعی لاحاصل کررہی ہے۔ انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے بھارت کے غیر حقیقت پسندانہ شرائط پر پاکستان کے ردعمل کو کشمیری عوام کے خواہشات اور جذبات کے عین مطابق قراردیا۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی موجودہ حکومت جامعہ مذاکراتی عمل کے حوالے سے اپنے پیشرو اٹل بہاری واجپائی اور من موہن سنگھ کی معتدل پالیسی سے مکمل انحراف کررہی ہے جو خطے کے امن و استحکام کیلئے نیک شگون نہیں۔

One thought on “آغا سید حسن کی دورہ ایران سے واپسی پر صدر دفتر پر اہم اجلاس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔