آغا حسن نے میر واعظ کشمیر کی طویل خانہ نظر بندی کے خاتمے کا خیر مقدم کیا

دینی اور حریت پسند جماعتوں پر عائد قدغن کے خاتمے کا مطالبہ
جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے متحدہ مجلس علما ء کے صدر میر واعظ کشمیرڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی طویل نظر بندی کے خاتمے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ گزشتہ دو سال سے جن دینی اور حریت پسند جماعتوں پر قدغن عائد کی گئی ہے ان پر لگی پابندی کوبھی فوری طور پر ہٹایا جائے میر واعظ کشمیر کی طویل ترین خانہ نظر بندی کو مذہبی آزادی اور جمہوری اقدار کی بیخ کنی کی ایک سیاہ مثال قرار دیتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ موصوف کی خانہ نظر بندی کی وجہ سے ریاست کے سب سے قدیم اور اہم دینی مرکز مرکزی جامع مسجد سرینگر میں جس طرح تبلیغی اور دینی سرگرمیاں کافی مدد تک مسدود ہوکر رہ گئیں اس کی مثال کشمیر کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی آغا صاحب نے کہا کہ ریاست کے سب سے با اثر اور اہم ترین دینی منصب پر فائز دینی و سیاسی رہنما اور ایک ہر دلعزیز مبلغ و خطیب ہونے کے ناطے میر واعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق کی طویل نظر بندی کشمیر ی عوام کے لئے انتہائی پریشان کن تھی موصوف کی خانہ نظر بندی سے رہائی پر عوام نے اطمینان کا سانس لیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔