یوم شہادت حضرت امام زین العابدین ؑ ،شالیمار سرینگر میں عظیم الشان جلوس ذوالجناح، آغا سید حسن نے امام عالی مقام ؑ کی شان و عظمت اور کردار و عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی

بڈگام/ سلسہ امامت کی چوتھی کڑی حضرت علی ابن حسین امام زین العابدین ؑ کے یوم شہادت کی مناسبت سے حسب عمل قدیم جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے تنظیم کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی قیادت میں عظیم الشان جلوس ذوالجناح از خانہ الحاج علی محمد خان آرہ بل شالیمار سے برآمد ہو کر امام بارگاہ گلشن علی شالیمار میں اختتام پذیر ہوا، جلوس ذوالجناح میں وادی کے اطراف و اکناف سے دسیوں ہزار عزاداروں نے شرکت کی۔

صبح 9 بجے سے لیکر نماز ظہرین تک الحاج علی محمد خان کے ہی صحن خانہ میں مجلس عزا منعقد ہوئی نماز ظہرین کی پیشوائی کے بعد صدر انجمن شرعی شیعیان منبر افروز ہوئے آغا صاحب نے حضرت امام سید الساجدین ؑ کی شان و عظمت اور کردار و عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

آغا صاحب نے کہا کہ امام عالی مقام ؑ میدان کربلا میں زندہ بچ جانے والے خانوادہ نبوت ؐ کے واحد مرد ہیں چونکہ مصلحت الٰہی کے عین مطابق امام سجاد ؑ روز عاشورا انتہائی علیل ہوئے اور میدان جہاد کا رخ نہ کر سکے، امام زین العابدین ؑ نے عمر بھر کربلا کے فکر و پیغام اور شہادت اعظمیٰ کی ترجمانی کی، اگر آج دنیا کے گوشے گوشے میں یا حسینؑ کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں تو یہ اسیران کربلا بالخصوص حضرت امام زین العابدین ؑ اور جناب زینب الکبریٰ  ؑ کے کردار و عمل کا نتیجہ ہے، اگر یہ دو برگزیدہ شخصیات قافلہ حسینی ؑ کے ہم قدم نہ ہوتے تو آج تاریخ کی کتابوں میں بھی کربلا اور شہادت امام حسین ؑ کا تذکرہ موجود نہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ حضرت امام سجاد ؑ زہد و تقویٰ اور عبادت و ریاضت میں یکتائے روزگار تھے عشق اور عرفان الٰہی کے اعلیٰ ترین منزل پر فائز تھے امام عالی مقام ؑ کی مناجات جو صحیفہ سجادیہ کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے نہ صرف عرفان الٰہی کا خزینہ بلکہ ہدیات و نجات کا ایک بے بدل سرمایہ بھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔