یمن پر سعوی اتحاد کی مسلسل فضائی جارحیت اور عالمی برادری کا دوہرا معیار افسوس ناک: آغا سید حسن

(بڈگام) کشمیر کے سینیئر حریت رہنما اور جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے یمن میں جاری وحشیانہ جنگ اور عالمی برادری کے دوہرے معیار کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یمن پر سعودی اتحاد کی مسلسل فضائی جارحیت پوری دنیا کے لیئے شرمناک بات ہے اور عالمی برادری کی خاموشی ایک افسوس ناک عمل ہے۔

تفصیلات کے مطابق جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے یمن کے بے بس عوام پر سعودی اتحاد کی 8 سال سے جاری فضائی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے یمن کے بحران سے متعلق عالمی برادری کے دہرے معیار کو انسانیت سوز قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یمنی مظلوم عوام نہایت بے سروسامانی کی حالت میں اپنادفاع کررہے ہیں اور ثابت قدمی کے ساتھ غیرملکی مداخلت کے خلاف باجواز مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں اس جنگ کے حوالہ س عالمی برادری کا دوہرا معیار بہت ہی افسوسناک اور حق و انصاف کے منافی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یمنی عوام اپنے دفاع میں جب کوئی معمولی نوعیت کی عسکری کاروائی انجام دیتے ہیں تو عالمی برادری یک زباں ہوکر اس کی مخالفت کرتی ہے اور یمنی حوثیوں کو دہشتگرد قرار دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف سعودی اتحاد آئے روز یمن میں سِول آبادی، اسکولوں اسپتالوں اور رہایشی بستیوں پر بمباری کررہا ہے جس کے نتیجہ میں آج تک دسیوں ہزار نہتے یمنی لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں بچوں اور خواتین کی خاصی تعداد شامل ہے۔

آغا سید حسن نے کہا کہ سعودی اتحاد نے یمن کا محاصره کررکها ہے جس کی وجہ سے وہاں ایک زبردست انسانی بحران پیدا ہوجکا ہے، غذائی اجناس اور ادویات کی شدید قلت کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ بالخصوص بچے شہید ہورہے ہیں جبکہ عالمی برادری اس تباه کن انسانی بحران سے چشم پوشی اختیار کررہی ہے اور جارحین کے بجائے اپنا دفاع کرنے والے مظلومین کو مورد الزام ٹھہرا کر آمریکا اور اسرائیل کے ناپاک عزایم کو تقویت پہنچا رہے ہیں۔

آغا سید حسن الموسوی الصفوی کا کہنا تھا کہ یمنی کے بحران کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف بالکل واضح ہے اور ایران چاہتا ہیکہ یمنی عوام کو اپنے داخلی معاملات کا فیصلہ خودلینے کا مکمل اختیار ہو اور غیرملکی مداخلت کا سلسلہ فوری طورپر بند ہونا چاہیئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔