کویت کی مسجد میں تکفیری خودکش دھماکہ ، آغا سید حسن کا اظہار رنج و غم

سرینگر/23جون2015/ جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ حجۃالاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کویت کی ایک امامیہ جامع مسجد ، مسجد امام صادقؑ میں تکفیری دہشت گردو ں کے خود کش حملے میں وسیع پیمانے پر روزہ دار نمازیوں کی شہادت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اسے صہیونی ایجنڈے کی ایک کڑی سے تعبیر کیا۔

خود کش حملے میں شہید 74 نمازیوں کو عقیدت کا خراج نذر کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ اسلام دشمن قوتیں دنیا بھر میں مسلمانوں کے قتل عام اور اپنی جنگ دوسروں کی سرزمین اور دوسروں کے ہاتھوں لڑوانے کی ایک تباہ کن پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ داعش تکفیری گروہ کو اسلام اور مسلمین کے خلاف یہود و نصاریٰ کی سب سے خطرناک سازش قرار دیتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ اس دہشت گرد جماعت کے فکر و نظریات اور مکروہ عزائم پوری ملت کیلئے ایک کھلا چیلینج ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دہشت گرد گروہ کے عزائم اور نظریات دورِ علی علیہ السلام کے گروہ خوارج سے جدانہیں جس نے الحکم لی اللہ کا نعرہ لگاکر مسلمانوں کا قتل عام کیا حتیٰ کہ صحابہ رسولؐ کو بھی نہیں بخشا اور خلیفہ وقت کو مسجد کوفہ میں حالت روزہ اور سجدہ میں شہید کرڈالا ۔اس جماعت کے انسانیت دشمن سیاہ کارنامے کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ ساتھ کچھ مغرب نواز مسلمان حکومتیں اس خونخوار دہشت گرد جماعت کو اپنے حقیر مقاصد کیلئے استعمال کررہی ہے اور ان کی بھر پور پشت پناہی کی جارہی ہے۔

آغا صاحب نے اس خونین سانحہ پر ملت امامیہ کویت اور شہدا کے لواحقین سے تعزیت و تسلیت کا اظہار کیا۔

آغا صاحب نے پولیس کے ہاتھوں تاریخی جامع مسجد سرینگر کی توہین کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کاروائی کو مداخلت فی الدین اور پولیس تشدد کو رمضان المبارک کے تقدس کے منافی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی جامعہ مسجد سرینگر کو خطہ کشمیر میں اقامت دین ، اتحاد ملی اور قوم کشمیر پر ہر جبر تشدد کے خلاف صدائے احتجاج کے مرکز کی حیثیت سے زمانہ قدیم سے ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ اس منفرد حیثیت کو حکومت کی جابرانہ حربوں سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔