کشمیر کے اسکولوں میں گاندھی پاٹھ کا حکم ناقابل قبول ہے، مسلمان بچوں کو عقیدے کے منافی سرگرمیوں کے لئے مجبور کرنا باعث تشویش: آغا حسن

بڈگام/ سرکاری اسکولوں میں گاندھی پاٹھ کو لازمی قرار دئیے جانے کے سرکاری حکم نامے کو ہندوتوا ایجنڈے کی ایک اور اہم کڑی سے تعبیر کرتے ہوئے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ حکم نامہ مسلمانوں بچوں کے ایمان و عقیدے کے ساتھ کھلواڑ ہے اور مسلمان بچوں کو اپنے دین و عقیدے کے منافی سرگرمیوں کے لئے مجبور کرنا آمرانہ اقدام ہے۔

مرکزی امام باڑہ بڈگام میں بھاری جمعہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ مسلم اکثریتی وادی کشمیر کے اسکولوں میں اس حکم نامے کو نافذالعمل بنانے کی کوششیں ناقابل قبول ہے اور ایسا کرنے سے ایک نیا تنازعہ جنم لے سکتا ہے کیوں کہ شرعی اعتبار سے یہ معاملہ مسلمانوں کے لئے فکر و تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اقلیتوں سے متعلق آئین میں دی گئی ضمانتوں اور حقوق کو یکسر نظر انداز کررہی ہے، آئین میں تعلیمی اداروں سے مذہب اور سیاست کو دور رکھنے کی جو وکالت کی گئی ہے اس کا بھی کوئی احترام نہیں کیا جا رہا ہے۔

آغا صاحب نے کہا کہ ملک کے مسلمانوں بالخصوص کشمیری عوام کے لئے یہ ایک غیر معمولی معاملہ ہے جس پر احتجاج بلند کرنا ناگزیر شرعی ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔