پیغام محرم الحرام1437ھ

معرکہ کربلاحق و باطل کی جنگِ مسلسل کا وہ پُر عزیمت مرحلہ ہے جہاں حق نے انتہائی بے سرو سامانی ، افرادی قوت کے زبردست فقداں اور حد درجہ حوصلہ شکن حالات کے باوجود اپنی ابدی اور دائمی فتح کا پرچم گاڑ کر اسلام اور انسانیت کی سربلندی اور تحفظ و بقاء کی درخشان تاریخ رقم کی ۔ دوسری جانب باطل ہر قسم کے وسائل طاقت و حکومت ، بے کراں افرادی قوت اور موافق حالات کے باوجودذلت آمیز شکست سے دوچار ہوا۔ صحرائے کربلا میں نواسۂ رسولؐ حضرت امام حسینؑ اور ان کے مٹھی بھر عزیز و اقارب کی شہادت عظمیٰ کا انقلاب آفرین واقعہ ہر دور میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلم اقوام کو بھی ظلم و استبداد اور جبر واستحصال کے خلاف مزاحمت و مقاومت کے جذبات سے سر شار کرتا رہا ہے۔ امام حسینؑ کا قیام اس قرآنی تقاضے کا پیامی ہے کہ جب اسلام کی بنیادوں کو کوئی سنگین خطرہ لاحق ہوجائے تو تحفظ اسلام کیلئے مزاحمت ایک ناگزیر فریضہ بن جاتا ہے اس حوالے سے وسائل اور افرادی قوت کے فقداں کو عذر شرعی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ آج دنیا کی استکباری قوتیں ایک بار پھر اسلام اور مسلمین کے خلاف ہر محاذ پر سرگرم عمل ہے ۔ ایک ہمہ گیر منصوبے کے تحت مسلکی انتہا پسندی کی آگ بھڑکائی جارہی ہے پورا عالم عرب اس آگ میں جھلس رہا ہے۔ لاکھوں بے گناہ نہتے مسلمان اس استکباری سازش کے شکار ہوچکے ہیں۔ صہیونی اور صلیبی ایجنسیاں اس اخوت شکن آگ کو دنیائے اسلام کے مزید ممالک تک پھیلانے کیلئے ہمہ وقت مصروف ہیں۔ ایام محرم کے دوران ان قوتوں کی شر انگیزیوں اور فتنہ پروازیوں میں متوقع طور پر اضافہ ہوسکتاہے۔ عاشورہ حسینیؑ ظلم وباطل اور اسلام دشمن قوتوں کی شر انگیزیوں کے خلاف حق پرستوں کے اتحاد و مزاحمت کی درسگاہ ہے۔ کردار حسینیؑ کا ہر پہلو احترام انسانیت ، اخوت ملی اور حقوق البشر کی محافظت کا آئینہ دار ہے۔ میں پرامید ہوں کہ ہم سب عاشورہ حسینیؑ کے آفاقی پیغام اور حیات بخش فکر کی روشنی میں اسلام وانسانیت کے دوست و دشمن کی شناخت کرکے شہدائے کربلا کو اس تجدید عہد کے ساتھ عقیدت کا خراج نذر کریں کہ ہم ظلم و باطل اور جبر وتسلط سے نجات کیلئے کردار حسینیؑ کو اپنا لائحہ عمل بناکر ہر سطح پر شریعت اسلامی ، احترام انسانیت اور ملی اخوت کا مظاہرہ کریں گے۔

انجمن شرعی شیعیان سربراہ اور سینئر حریت رہنما
آغا سید حسن الموسوی الصفوی
۱۴۳۷ھ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔