پاکستانی وزیر اعظم کا یو این جنرل اسمبلی سے خطاب مفاہمانہ جذبات کا عکاس:آغا سید حسن

سرینگر/جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پاکستانی وزیر اعظم جناب نواز شریف کے خطاب کو مفاہمانہ جذبات کا عکاس قرار دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا پر دہشتگردی کے منڈلاتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایسے تمام سیاسی تنازعات کا حل انتہائی ضروری ہے جومحکوم قوموں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کر رہے ہیں۔انہوں نے قیام امن کیلئے پاکستانی وزیر اعظم کی چار نکاتی تجویز ،ایل او سی پر دونوں اطراف جنگ بندی کا احترام اور پابندی،ریاست جموں کشمیر سے فوجی انخلاء اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی بنیاد پر تنازعہ کشمیر پر نتیجہ خیز مذاکرات کو حقیقت پسندانہ سوچ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہند پاک حکومتیں حقیقی معنوں خطے میں امن و استحکام اور اپنے کروڑوں عوام کی فلاح و بہبود میں مخلص ہیں تو مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے کیونکہ یہ تنازعہ کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے اور دونوں ممالک کی ا قتصادیات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔آغا صاحب نے عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان حالیہ جوہری معاہدے کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کی آپسی دشمنی اور رقابت ایک مسلمہ حقیقت ہے جس کے باوجود دونوں حریف ممالک نے عالمی امن کیلئے دشمنی کو بالائے طاق رکھ کر ایک ایسا معاہدہ عمل میں لایا جو دنیا کے محفوظ مستقبل کیلئے ایک نیک شگون ہے۔پاکستانی وزیر اعظم کی تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کی مخلصانہ دعوت کا خیر مقدم کرتے ہوئے آغا صاحب نے حکومت ہندوستان کو مشورہ دیا کہ وہ مزید وقت گذاری کے بجائے مثبت رد عمل کا اظہار کرے تاکہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے۔دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے دلدوز منی سانحہ کو حکومت سعودیہ کی غفلت شعاری کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے عظیم المیوں پر چیخ و پکار اور حزن و ملال ہر گلمہ گو مسلمان کا ایمانی تقاضہ ہے۔مسلمین کے درد و کرب کے حوالے سے اظہار خیال کیلئے قد ،منصب اور اختیار و اقتدار کوئی معنی نہیں رکھتا ۔اس عظیم سانحہ کے حوالے سے انسانیت ،اسلام اور مسلمین کے مفاد کے بجائے ملوکیت کی بے جا طرفداری حق و انصاف سے عاری ہے۔ترجمان نے کہا کہ یمنی شہریوں پر مناسک حج کی ادائیگی پر پابندی بذات خود حکومت آل سعود کی فکر و ذہنیت کو واضح کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔