وقف کے بارے میں استفتاء

استفتاء نمبر: 9772myk

تاریخ ارسال: 2020/12

وقف، مساجد اور قبرستان

سلام علیکم

بمراد اینکہ کشمیر میں موقوفات کا سلسلہ بہت عرصہ پہلے وجود میں آیا ہے لوگوں نے انڈے سے لے کر اپنی اراضی اور ملکیت تک ایک خاص عنوان کے تحت وقف کی(وقف خاص) ۔ یہ موقوفات زیادہ تر حوزات علمیہ ،رفاہ عامہ اور دیگر تبلیغی امور کے اہم ترین مالی ذرایع ہیں۔ ان موقوفات میں حوزات علمیہ، مساجد اور امام بارگاہیں شامل ہیں جوکہ شرعی تولیت کے اندر ہیں۔

کشمیر میں سیاسی صورتحال کے نشیب و فراز کو مدنظر رکھتے ہوئے اس وقت موجودہ حکومت(کفر) شیعہ وقف بورڈ کا مہرہ استعمال کرکے ان موقوفات کو اپنے اختیار میں لینا چاہتی ہے اور اس سلسلے میں شیعیان کشمیر پر بہت زیادہ دباو ڈالا جارہا ہے۔ کیا ایسی صورت میں ہم یہ سارے موقوفات حکومت کے حوالے کرسکتے ہیں جبکہ ہمیں اس بات پر پورا یقین ہے کہ حکومت(کفر) ان ذرایع کو تباہ و برباد کردے گی جسے شیعوں کی معیشت کو بہت نقصان لاحق ہوگا اس کے علاوہ ہمیں اس بات سے بھی آگاہ کریں کیا متولی وقف عوام کے سامنے جوابدہ ہے کیا اس پر واجب ہے کہ وہ موقوفات کی آمدنی اور خرچہ جات کا حساب عوام کے سامنے رکھے شرعی لحاظ سے ہماری ذمہ داری کیا ہے وضاحت فرمائيں؟

سلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

۱- جائز نہیں ہے

۲- متولی کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ وقف نامے کے مطابق عمل کرے اور اس کی مخالفت جائز نہیں ہے اور اس سلسلے میں دوسروں کے سامنے رپورٹ پیش کرنا اس کی ذمہ داری نہیں ہے

 

 

کامیاب و کامراں رہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔