نشست ہم اندیشی علماے شیعیان کشمیر کی فکری ہم آہنگی کا سنگ میل

جبری اقدامات کے آگے سرنگونی ایمان وعقیدے سے سمجھوتہ کے مترادف ترجمان
جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے 27جنوری 2021کو تنظیم کے صدر دفتر پر منعقدہ نشست ہم اندیشی علماے شیعیان کشمیر کوفکری اور عملی ہم آہنگی کا ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شیعیان جموں و کشمیر حکومتی جبری اقدامات کے آگے سرنگون ہوکر اپنے عقائد سے کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے ترجمان نے کہا کہ مداخلت فی الدین کی حکومتی کاروائیاں سراسر ناقابل قبول ہیں اور ان کاروائیوں کا ہمارے ایمان و عقیدے سے براہ راست تعلق ہے یہ کاروائیاں نہ صرف شریعت کے منافی بلکہ انکے دوررس منفی نتائج تمام دینی، تبلیغی اور تعلیمی سرگرمیوں پر مرتب ہوں گے ترجمان نے کہا کہ معاملے کی سنگینی اور حساسیت کو درک کرکے تمام علماے شیعیان کشمیر نے ایک ناگزیر شرعی ذمہ داری کے تحت متحد ہوکر اپنی منصبی مسولیت کی ادایئگی کا عزم ظاہر کیا علماے شیعیان کشمیر کی یہ فکری اور عملی ہم آہنگی قوم کے جملہ مسائل کے حوالے سے مثبت نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوگی ترجمان نے کہا کہ علما کانفرنس میں دین و مسلک کے مفادات کے لئے طے شدہ لایحہ عمل کوعوامی سطح پر زبردست پذیر ائی حاصل ہو رہی ہے جو قوم کو اپنے دینی و مسلکی مسائل کے حل کے لئے ایک حوصلہ افزا صورت حال کا پیش خیمہ ثابت ہوگی شیعیان کشمیر کے موقوفات پر جبری تسلط کے حکومتی منصوبوں کو عقیدہ امامیہ اور اور فقہ جعفریہ میں دینی اثاثوں سے متعلق قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے اس طرح کا جبری اقدام شیعیان کشمیر کو کسی بھی قیمت پر قابل قبول نہیں ترجمان نے کہا کہ علماے شیعیان کشمیر کی سرپرستی میں اس حکومتی جبری اقدام کے خلاف ایک منظم،پرامن اور مہذب احتجاجی مہم کے طور طریقوں پر تبادلہ خیال جاری ہے دریں اثنا انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے مذکورہ علما کانفرنس میں شرکت کرنے والے تمام ذی عزت علمائے دین کا پر خلوص شکریہ ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔