مولانا محمد عباس انصاری کے سانحہ ارتحال پر انجمن شرعی شیعیان کا اظہار رنج و غم، مرحوم رہنما کی دینی سیاسی سماجی اور فلاحی خدمات کو آغا  سیدحسن کا خراج عقیدت

بڈگام/ معروف و مقتدر عالم دین اور انجمن اتحاد المسلمین کے بانی و سرپرست حجت الاسلام والمسلمین مولانا محمد عباس انصاری کے سانحہ ارتحال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان نے غمزدہ خانوادے بالخصوص مرحوم کے خلف صالح حجت الاسلام والمسلمین مولانا مسرور عباس انصاری سے تعزیت کی۔

انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے مولانا محمد عباس انصاری کی وفات کو کشمیریوں کی سیاسی جدوجہد اور تبلیغی مشن کی تاریخ  کے ایک دور کا اختتام قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی ولولہ انگیز شخصیت ملت کشمیر کے لئے ہمیشہ باعث افتخار رہی۔

مولانا مرحوم کو مزاحمت اور استقامت کی کھلی کتاب قرار دیتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ مرحوم کی دینی و تبلیغی خدمات ناقابل فراموش ہیں، مرحوم نے تقریری اور تحریری محاذ پر اپنی قابلیت، ذہانت اور علمی عظمت کا ثبوت دیا، مرحوم ابتدا سے ہی اتحاد بین المسلمین کے علمبردار رہے اور ہمیشہ اخوت ملی کی آبیاری کرتے رہے، مرحوم نے کسی بھی موڑ پر اپنے اصولوں اور موقف سے انحراف نہیں کیا بلکہ ہمیشہ کشمیری قوم کے حقوق کی وکالت کرتے رہے جس کی پاداش میں مرحوم کو بار بار زینت زندان بنایا گیا، موئے مقدس بازیابی تحریک میں مولانا محمد عباس انصاری کا قائدانہ کردار ابھی تک زبان زدہ عام ہے، وادی کشمیر میں شیعہ اور سنی برادری کے درمیان بدگمانیوں کو دور کرنے اور دونوں برادریوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مرحوم مولانا محمد عباس انصاری کا ایک نمایاں کردار ہے۔

آغا صاحب نے کہا کہ مولانا کی جدائی سے ملت تشیع کشمیر ایک متاع بے بہا سے محروم ہو گئی ہے اور ایک ایسا خلا پیدا ہو ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکتا، آغا صاحب نے مرحوم کے بلند درجات اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ صدمے کی اس گھڑی میں پوری قوم غمزدہ خانوادے کے غم و ماتم میں برابر کی شریک ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔