مسلم خواتین کی عالمی یونین کی جانب سے بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کے خلاف شدید مذمتی بیان

(بڈگام)  مسلم خواتین کی عالمی یونین (Global Association of Moslem Women)  نے بھارتی تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کے حجاب پر پابندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے جس کا متن مندرجہ ذیل ہے:

حالیہ ہفتوں میں، ہم نے بڑے دیکھ اور افسوس سے یہ دیکھا ہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک کے بہت سے سرکاری تعلیمی اداروں نے تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر دی ہے، گزشتہ ہفتے کرناٹک کی حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں کہا گیا ہیکہ "ایسے کپڑے نہیں پہننے چاہئیے جو مساوات، وقار، قانون اور امن عامہ کی خلاف ورزی کرتے ہوں ” اور اسکولوں میں حجاب کو لیکر ہندو اور مسلم طلباء کے درمیان کشیدگی اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس کے نتیجے میں کرناٹک کے حکام نے اسکولوں اور کالجوں کو تین دن کے لیے بند کردیا۔

ہم مسلم خواتین کی بین الاقوامی یونین، بھارت کی کچھ ریاستوں میں انسانی حقوق کے کردار اور محجبہ خواتین کو کے حجاب کو اتارنے اور کچھ ریاستوں میں بھارتی حکام کی طرف سے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کے بارے میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں” اور ہم مسلم خواتین کے خلاف اس نسل پرستانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہیں۔

ہم دنیا بھر بالخصوص اسلامی دنیا میں انسانی اور سماجی حقوق کی تمام تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت میں مسلم خواتین پر ان حملوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کریں اور انصاف اور مذہبی آزادی، بالخصوص دین مبین اسلام اور اس کی اعلیٰ تعلیمات کے بلند مقاصد کے حصول کے لیے کوشش کریں۔

اور ہم اس مسئلے کو اعلیٰ ترین سطح پر لانے اور بھارتی تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کے خلاف جو کچھ  ہورہا ہے اور ان کے مذہبی عقائد کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس مذہبی امتیاز کا جواب دینے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہیں۔

واللہ ولینا و نعم الوکیل

Global Association of Moslem Women

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔