ماگام میں فوج کی جانب سے شہید جنرل قاسم سلیمانی کا فوٹو جلانے کے خلاف ایڈوکیٹ آغا سید منتظر مہدی کی احتجاجی جلسے میں شرکت، ضلع انتظامیہ سے سخت نوٹس لینے کی اپیل کی

(بڈگام) جموں کشمیر کے ماگام علاقے میں شیعہ جوانوں نے شہیدِ قدس، جنرل قاسم سلیمانی کے فوٹو لگائے جنہیں فوج کی جانب سے اتار دیا گیا جس کے بعد پورے علاقے میں جوانوں کی جانب سے شدید احتجاج شروع ہوگیا۔

 

اسی سلسلے میں ایڈوکیٹ آغا سید منتظر مہدی صاحب نے عوامی احتجاج میں شرکت کی اور اس طرح کی مجرمانہ کاروائی کرنے والے فوجیوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بڈگام انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کی۔

تفصیلات کے مطابق جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے ایک وفد نے ایڈوکیٹ آغا سید منتظر مہدی صاحب کی سربراہی میں ضلع انتظامیہ سے  ملاقات کی اور اس طرح کے اقدامات کے خلاف اپنا شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے انتظامیہ سے کہا کہ ضلع انتظامیہ کو اس مجرمانہ حرکت کے خلاف نوٹس لیتے ہوئے فوج کو انتباہ دینا چاہیئے کہ فوج دینی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے نہیں تو اس کا سخت رد عمل سامنے آسکتا ہے جس کی ذمہ داری فوج پر عائد ہوگی۔

واضح رہے کہ  جموں کشمیر کے ماگام علاقے میں شیعہ جوانوں نے شہیدِ قدس، جنرل قاسم سلیمانی کے فوٹو لگائے جنہیں فوج کی جانب سے اتار دیا گیا جس کے بعد پورے علاقے میں جوانوں کی جانب سے شدید احتجاج شروع ہوگیا جس کو دیکھتے ہوئے فوج نے فوری طور پر معافی مانگتے ہوئے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور دوبارہ سے شہید قاسم سلیمانی کے فوٹو لگانے کی اجازت دیتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان سے یہ غلطی ہوئی ہے۔

فوج کے اس اقدام کے بعد نوجوانوں نے ہر طرف لبیک یا حسین کے فلگ شگاف نعرے لگانے شروع کردیئے اور شہید قاسم سلیمانی کو اپنا رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ ہمارے دینی اور مذہبی ہیرو شہید جنرل قاسم سلیمانی اور ان جیسے ہزاروں شہیدوں کی شان میں گستاخی کرے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے ہمارے شدید غصے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔