ضلع بڈگام کی عوام کے ساتھ حکومت کی انصافیاں، آغا سید حسن نے شدید مذمتی بیان جاری کردیا

(بڈگام)  جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر، حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ضلع بڈگام بالخصوص ضلع ہیڈ کوارٹر بڈگام کے لئے حکومت کی تازہ ترین منصوبہ سازی کو عوامی مطالبات اور ناگزیر ضروریات کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت کی ناانصافیوں کے خلاف شدید مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہیکہ وہ اس طرح کی ناانصافیوں سے پرہیز کرتے ہوئے بڈگام کی عوام کے ساتھ انصاف کریں۔

مرکزی امام بارگاہ بڈگام میں نماز جمعہ کے خطبوں میں آغا سید حسن نے جو مذمتی بیان جاری کیا اس کا متن مندرجہ ذیل ہے:

معزز مومنین کرام سلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
آج جمعہ اجتماع کے موقعہ پر میں ضلع بڈگام بالخصوص ضلع ہیڈ کوارٹر بڈگام اور متصل علاقہ جات کے عوام کی توجہ ایک اہم معاملے کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں آپ سب جانتے ہے کہ ضلع بڈگام کو وجود میں آئے ہوئے تقریباً پچاس سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس مدت میں بھی ضلع ہیڈ کوارٹر بڈگام ان سہولیات تعمیری ڈھانچوں اور دیگر لازمی سہولیات سے محروم ہےجو ایک ضلع صدر دفتر کے لئے ناگزیر ہوتی ہے، اس سلسلے میں ریاستی انتظامیہ نے ہمیشہ ضلع بڈگام کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا ہے عوامی مطالبات اور ضروریات کی طرف کبھی دھیان نہیں دیا گیا بلکہ وقتاً فوقتاً خود ساختہ پلان مرتب کرکے ان پلانوں کو صرف اعلانات تک محدود رکھا گیا زمینی سطح پر یہ حکومتی اعلانات ہمیشہ سراب ثابت ہوئے۔

آپ سب لوگ واقف ہیں کہ کس طرح ریاستی انتظامیہ سالہاسال سے ضلع اسپتال بڈگام کا درجہ بڑھانے کی یقین دھانی کراتی رہی لیکن اس حوالے سے کبھی عملی اقدام نہیں کیا گیا، ضلع کے عوام شدت سے یہ ضرورت محسوس کر رہے ہیں کہ ضلع اسپتال بڈگام جس جگہ قائم ہے وہ جگہ اسپتال کے لئے موزون نہیں کیوں کہ وہاں جگہ بالکل کم ہے اور اس عمارت کے چاروں طرف دیگر دفاتر ہیں، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ یا تو اسپتال کو کسی اور موزون جگہ پر منتقل کیا جائے یا پھر اس کے متصل کچھ دفاتر کو دیگر مقامات پر منتقل کیا جائے، حکومت اس ناگزیر ضرورت سے ہمیشہ آنکھیں چراتی رہی ایک بار پھر گورنر انتظامیہ نے اس اسپتال کا درجہ بڑھانے کے بجائے اس کا درجہ گھٹا کر 150 بستروں تک محدود کرنے کا اعلان کرکے ضلع بڈگام کے عوام کی زخموں کی نمک پاشی کی ہے۔

ہم اس اعلان کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ گورنر انتظامیہ کا یہ اعلان واضح طور پر انسانیت سوز ہے، اسی طرح ضلع ہیڈ کوارٹر کو دیگر اضلاع سے ملانے والی رابطہ سڑکوں سے متعلق گورنر انتظامیہ کی تازہ ترین منصوبہ بندی بالکل نامناسب اور عوامی مفادات کے منافی ہے، ضلع صدر دفتر کو سرینگر سے ملانے والی سب سے اہم اور عبور و مرور کی معروف سڑک ہمہامہ بڈگام روڑ ہے یہ سب سے قدیم سڑک ہے اس اہم سڑک کو سرے سے نظر انداز کرکے ایک ایسی سڑک جو کسی اہمیت اور عبور و مرور کی حامل نہیں ہے اسی سڑک کو بڑھانے اور تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا، ضلع کے عوام اس اعلان پر تعجب کا اظہار کر رہے ہیں، گورنر انتظامیہ سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ آخر ایک انتہائی اہم سڑک ہمہامہ بڈگام روڑ کو نظر انداز کرکے ایک غیر معروف سڑک کو بڑھانے سے ضلع بڈگام کے عوام کو کونسی راحت مل سکتی ہے جب کہ بڈگام کے آس پاس دور دراز مقامات کو ملانے والی چھوٹی چھوٹی سڑکیں برسوں سے خستہ حالت میں ہیں جن کی طرف کبھی توجہ نہیں دی گئی ان سڑکوں کی خستہ حالی سے لاکھوں لوگ آئے روز پریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں، بڈگام گوجرہ روڑ، بڈگام نصراللہ پورہ روڑ وغیرہ کی تعمیر و مرمت انتہائی ناگزیر ہے، اس ضمن میں ضلع بڈگام، بالخصوص ضلع ہیڈ کوارٹر بڈگام اور متصل علاقہ جات کے لاکھوں لوگ گورنر انتظامیہ سے پر زور مطالبہ کرتے ہے کہ ضلع بڈگام کے لئے مرتب ان تازہ ترین منصوبوں کے حوالے سے عوامی خواہشات، مطالبات اور ضروریات کو نظر میں رکھ کر عملی اقدامت کئے جائیں۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔