رمضان المبارک کا پہلا جمعہ، آغا سید حسن نے رمضان المبارک کو حصول تقویٰ کا بہترین مہینہ قرار دیا

(بڈگام) جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کے خطبوں سے خطاب کرتے ہوئے رمضان المبارک کو حصول تقویٰ کا بہترین مہینہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماہ رمضان قرب الٰہی ونزول ملائکہ، حصول تقوىٰ وموجب مغفرت، تنوىرقلب وتطہىرروح، تزکىہ نفس وتزکىہ اموال، فراخى رزق و کشائشِ امور، حصول خىرودفع شر، ازدىادحسنات وامحائےسىئات اوردخول بہشت و نجات جہنم کابہترىن ذرىعہ ہے۔

آغا صاحب نے کہا کہ حصول تقوىٰ کےلىےرمضان المبارک سےبڑھ کرکوئى مہىنہ مومنىن کو مىسرنہىں آسکتا جىساکہ قرآن کرىم مىں روزوں کى فرضىت کابنىادى مقصدہى تقوىٰ بىان کىاگىا ہےچنانچہ فرماىا: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ۔

آغا سید حسن نے رمضان کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ روزے کا بنىادى مقصدہى ىہ ہےکہ انسان تقوىٰ اللہ اختىار کرتے ہوئے اپنے نفس کو دنىوى و نفسانى خواہشات کى ملونى سےپاک کرکےاسےاللہ تعالىٰ کےاحکام کاپابنداوراىمانى وروحانى تقاضوں کاتابعداربنائےاور احکام الٰہی کے مقابل پرنفس کى خواہشات اورشہوات پرقابوپانےکى عادت ڈال کرمعصىت وگناہ سے بچا رہے۔ اسى کانام تقوىٰ ہے جو انبىاء ورسل کےمبعوث ہونے کى اغراض مىں سےہے، اس لىےگذشتہ تمام شرىعتوں مىں بھى روزے کاحکم دىاگىاجن کى نوعىت ہرزمانہ کےلحاظ سےمختلف تھى۔ لىکن اسلام نےسال کےبارہ مہىنوں مىں سے اىک مہىنہ خاص طورپرحصول تقوىٰ کےاہم مقصدکےلىے چنا۔

انجمن شرعی شیعیان کے صدر نے مزید کہا کہ اسلام اىسامذہب ہےجو افراط وتفرىط سے ہٹ کرمىانہ روى کى تعلىم پىش کرتاہے، انسان سار اسال اکل وشرب اور دنىاوى امور مىں مگن رہتاہے جوقرب الٰہی اورحصول تقوىٰ مىں سستى ورکاوٹ کاباعث بنتے ہیں، لىکن رمضان المبارک خدا تعالىٰ کى ایک اىسى خاص نعمت ہے جس سے متمتع ہوتے ہوئے روزہ دار الٰہی حکم کے مطابق کھانے پىنے اور دىگر نفسانى خواہشات سے رک کر اپنى زندگى مىں مىانہ روى اور اعتدال پىدا کرتا ہے، اور یہى عدل کى راہ روزہ دار کو تقوىٰ کى منزل پرگامزن کرتى ہے،چنانچہ اللہ تعالىٰ قرآن کرىم مىں فرماتا ہے: اعْدِلُوْا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۔

آغا صاحب نے آخر میں کہا کہ ماہ رمضان، مواسات یعنی باہمی ہمدردی اور رفاقت کا مہینہ ہے ،جس میں ایک دوسرے کے دُکھ درد کو سمجھنے اور بانٹنے کا سلیقہ سیکھنے کو ملتا ہے اور موجودہ صورتحال میں دیکھا جائے تو گردآبِ ہلاکت میں گھِرے ہوئے شکستہ دل اور پریشان انسان کے لئے ماہِ رمضان اطمینان و سکون کا روح پرور موسمِ بہار ہے، جس کی رحمتوں اور برکتوں کی کوئی انتہا نہیں، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ماہِ رمضان سے تربیت پا کر بندہ ہمہ وقت اس حالت میں رہے کہ تقوٰی اُس کا اوڑھنا بچھونا ہو اور وہ سماج کے لئے سراپا خیر بن جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔