دارالمصطفی بڈگام پر متحدہ مجلس علما کا ہنگامی اجلاس

وسیم رضوی توہین قرآن معاملے سے پیدا شدہ صورت حال زیر بحث
جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر دفتر شریعت آباد بڈگام پر متحدہ مجلس علما کا ایک ہنگامی اجلاس خانہ محبوس امیر مجلس میر واعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی ہدایت پر منعقد ہوا اس باوقار اجلاس کی صدارت حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کی اجلاس میں جن دینی تنظیموں اور اداروں کے سربراہان و نمائندگان نے شرکت کی ان میں مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام، مولانا مسرور عباس انصاری، آغا سید محمد ہادی،مفتی محمد اسحاق نازکی، مولوی محمد اشرف عنایتی، مولانا خورشید احمد قانونگو، مولانا لطیف احمد بخاری، مفتی سید احمد بخاری،مفتی غلام رسول سامون،مولانا فرید الرحمان بخاری، مولاناغلام رسول نوری، سید عابد حسین حسینی،مولوی بشیر احمد بٹ،سید عابد رضوی، مولوی مدثراحمد،مولوی غلام حسین متو، مجلس کے سیکریٹری مولانا ایم ایس رحمان شمس و دیگر درجنوں علما و مشائخ شامل ہیں اجلاس میں وسیم رضوی کی طرف سے قرآن مقدس سے آیات بینات حزف کرنے سے متعلق سپریم کورٹ میں دائر عرضی سے پیدا شدہ صورتحال کو زیر بحث لایا گیا اوراس ارتدادی حرکت کو دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے دینی جذبات مجروح کرنے اور مسلکی تشدد بھڑکانے کی ایک منصوبہ بند سازش کی کڑی قرار دیا گیا
اس موقعہ پر منعقدہ ہنگامی پریس کانفرنس میں متفقہ قرار داد پیش کی گئی قرارداد میں وسیم رضوی کی نا شائستہ حرکت اور ارتدادی فعل کی پر زورالفاظ مزمت کی گئی اور حکومت ہند سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مذکورہ شخص کوقرآن کریم کی توہین اور فرقہ وارانہ فساد برپا کرنے کی پاداش میں فوری طور گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دے قرار داد میں کہا گیا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی مذہب یا مذہبی کتاب کے خلاف عدالت میں کوئی عرضی داخل نہیں کی جا سکتی بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے اس نوعیت کی عرضی کی شنوائی کے لئے معاملہ درج کرنا ملت اسلامیہ کے لئے انتہائی دلخراش ہے لہذا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ عرضی کو بلاتاخیر خارج کیا جائے قرارداد میں یہ بات زور دے کر کہی گئی کہ اس طرح کی جنونی حرکات کرنے والے افراد و عناصر کو کسی مذہب یا مسلک کے ساتھ نہ جوڑا جائے قرار داد میں متحدہ مجلس علما کے محبوس امیر میر واعظ کشمیر کی نظر بندی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ موصوف اس نوعیت کے حساس معاملوں میں قیادت کے ساتھ ساتھ اپنی منصبی ذمہ داریاں پورا کر سکیں اس موقعہ پر جموں و کشمیر کے تمام سیاسی اسیروں کی رہائی کا مطالبہ بھی دہرایا گیا۔قرار داد میں فیصلہ کیا گیا کہ وسیم رضوی کے ارتدادی فعل سے متعلق شیعیان عالم کے مراجع عظام کو تفصیلی خط روانہ کرکے موصوف کے ارتداد کا فتویٰ لیا جائے۔کیوں کہ موصوف شیعیت کا لبادہ اوڑ کر ارتدادی حرکات انجام دے رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔