بلا تحقیق خبروں کی بنیاد پر بیانات اسلامی وحدت کیلئے نقصان دہ

سرینگر/5اگست2015/ اسلامی جمہوریہ ایران کی راجدھانی تہران میں سنی مسلک کی مسجد کی مسماری سے متعلق مقامی اخبار میں شائع بے بنیاد خبر پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا ہے کہ ہم پورے اعتماد اور یقین سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا میں اسلامی جمہوریہ ایران سے زیادہ کسی بھی اسلامی ملک میں مذہبی بالخصوص مسلکی اقلیتوں کے حقوق محفوظ نہیں۔ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے 36 برسوں میں ایران سے کبھی کہیں سے بھی کوئی خبر نہیں ملی کہ وہاں کی مسلکی اقلیتوں کے ساتھ کوئی زور و زبردستی کی گئی اور نہ ان کے حقوق کی پامالی کے حوالے سے کوئی خبر باہری دنیا کو موصول ہوئی۔ آغا صاحب نے کہا کہ بلا تحقیق کسی خبر کی تشہیر کرنا جس سے مسلمانوں کی اتحاد و اخوت میں رخنہ پڑھ سکتا ہے قرآنی تعلیمات کے سراسر منافی ہے اور قرآن حکیم کا واضح حکم ہے کہ بلا تحقیق ایسی خبر کا ہر گز چرچا نہ کرو جس سے فساد برپا ہو اور بعد میں اس خبر کی حقیقت سامنے آئے اور آپ کو پچھتاوا ہو۔ آغا صاحب نے واضح کیا کہ جس خبر کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے اس حوالے سے مقامی اخبار میں بیان شائع کیا گیا اس کی اصل حقیقت یہ ہے کہ تہران شہر میں ایک سرکاری قطعہ زمین (پارک) جسے ایک مدت سے بلا لحاظ مسلک راہ گیر نماز کی ادئیگی کیلئے استعمال کرتے چلے آرہے ہیں پر کچھ لوگوں نے بلا اجازت مسجد کی تعمیر کا منصوبہ بنایالیکن تہران شہر کی انتظامیہ نے انہیں ایسا کرنے سے روکا اور یہ موقف اختیار کیا اس قطعہ زمین پر کوئی ایسا تعمیری ڈھانچہ کھڑا نہ کیا جائے جو کسی مسلک سے منصوب ہو کیونکہ ایسا کرنا وحدت اسلامی کے منافی ہے۔ لہذا یہ پارک اپنی اصلی حالت اورحیثیت میں باقی رہے ۔مذکورہ قطعہ اراضی پر جب کوئی مسجد ہی تعمیر نہیں ہوئی ہے تو اس کی مسماری کی خبر بذات خود ایک مفروضہ ہے۔ آغا صاحب نے کہا کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعدحکومت ایران مسلکی اقلیتوں کے حقوق سے متعلق حد درجہ سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا ایران میں 7% سنی آبادی اور اس مسلکی اقلیت کی مساجد کی تعداد 15000 سے زائد ہے۔حالانکہ ایران میں شیعہ یا سنی پیش نماز کے پیچھے نماز پڑھنا لوگوں کیلئے کوئی مس 191لہ نہیں۔آغا صاحب نے کہا کہ اگر اس خبر میں کوئی حقیقت ہوتی تودنیائے اسلام میں اسکا سخت رد عمل سامنے آیا ہوتا۔ کیونکہ ایسے معاملات دنیا کی آنکھوں سے اوجھل نہیں رہتے۔ خاص کر ایران کو بدنام کرنے کیلئے عرب اور مغربی میڈیا ہر وقت موقعہ کی تاک میں رہتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔