انجمن شرعی کے اہمتام سے وادی بھر میں جمعة الوداع کے اجتماعات ، یوم القدس کے جلوس

سرینگر/17جولائی2015/ جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے وادی بھر میں جمعة الوداع کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوئے اور یوم القدس اور یوم کشمیر کی مناسبت سے درجنوں جلوس برآمد کئے گئے۔ سب سے بڑا اجتماع مرکزی امام باڑہ بڈگام میں منعقد ہوا جہاں تنظیم کے سربراہ حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے جمعة الوداع کی فضیلت بیان کی اور یوم القدس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد آغا صاحب کی قیادت میں یوم قدس کا عظیم الشان جلوس برآمد کیا گیا۔ یوم القدس کا دوسرا بڑا جلوس ماگام میں آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی کی قیادت میں برآمد کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید نے شرکت کی ۔ ماگام چوک میں جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے آغا مجتبیٰ نے یوم القدس و کشمیر کے حوالے سے روشنی ڈالی۔ انہوںنے کہا کہ ان اجتماعات کا مقصد یہ ہے کہ ہم دنیا کے مظلوم و محکوم مسلمانوں تک یہ پیغام پہنچائے پوری ملت اسلامیہ ان کے درد و کرب میں برابر کے شریک ہیں۔ ضلع سرینگر میں سب سے بڑا جمع اجتماع قدیمی امام باڑہ حسن آباد میںمنعقد ہوا جہاں سید عابد حسین حسینی کی قیادت میں جلوس قدس برآمد کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی ۔ جلوس میں مظلومین عالم بالخصوص مظلومین فلسطین و کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ جن دیگر مقامات پر جمعة الوداع اور یوم القدس کے اجتماعات اور جلوس برآمد کئے گئے ان میں مسجد صاحب الزمانؑ آبی گذر سرینگر، آستانہ شریف میر شمس الدین اراکیؒ چاڈورہ، جامع مسجد سونہ پاہ بیروہ، امام باڑہ چھاتر گام چاڈورہ، امام باڑہ گامدو بانڈی پورہ، جامع مسجد نوگام سنبل سوناواری، امام باڑہ وکھرون پلوامہ اور امام باڑہ زالپورہ سوناواری شامل ہیں۔یوم قدس کا سب سے بڑا جلوس امام باڑہ بڈگام سے برآمد کیا گیا جس میں فرزندان توحید کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔ شرکائے جلوس نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں ملت فلسطین، یمن ، بحرین، برما سمیت دنیاکے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نہریں درج تھیں۔ مظاہرین نے امریکہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ یمن پر سعودی جارحیت کے خلاف اور تنازعہ کشمیر کے مستقل حل کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔ مین چوک بڈگام میں جلوس قدس سے خطاب کرتے ہوئے آغاصاحب نے عالم اسلام کی موجودہ دلخراش صورتحال اور دنیائے اسلام میں تکفیری دہشت گردی کے نتیجے میں نہتے شہریوں کے قتل عام کو امریکہ اور اسرائیل کی منصوبہ بندیوں کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کوئی مملکت نہیں بلکہ مشرقی وسطیٰ میں دنیائے عرب کو ڈرانے اور دھمکانے کیلئے امریکی اسلحہ خانہ ہے جس کی حفاظت کیلئے امریکہ ملت فلسطین سمیت عرب دنیاکے ایسے تمام طبقہ ہائے فکر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے پر تلا ہوا ہے جنہیں اسرائیل کیلئے خطرہ تصور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبلہ اول کی آزادی پوری ملت اسلامیہ کا مشترکہ ایجنڈا ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے ایک آزاد و خود مختار فلسطینی مملکت کا قیام شرط اول ہے۔ لہذا تمام دنیا کے مسلمانوں کو فلسطین کی آزادی کا نہ صرف عزم کرنا چاہیے بلکہ اس مقصد کیلئے اپنی حکومتوں پر دباو ڈالنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عرب دنیا کی اسرائیل اور امریکہ نواز حکمران اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حکمرانوں اور حکومتوں کے خلاف عوامی تحریکیں جاری ہیں جنہیں ختم کرنے کیلئے القاعدہ اور داعش جیسی تکفیری دہشت گردوں کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔تنازعہ کشمیر کو سوا کروڑ انسانوں کے سیاسی مستقبل کا معاملہ قرار دیتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ جب تک بھارت اس سیاسی تنازعہ کو طاقت کی عینک سے دیکھتا رہے گا جنوب ایشیائی خطے کے امن و استحکام کی کوئی ضمانت نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔