انجمن شرعی کے اہتمام سے محرم تقاریب کا سلسلہ جاری مدین صاحب جڈی بل میں جلوس ذوالجناح، کابل بم دھماکے اور لال چوک میں عزاداروں پر تشدد کے خلاف آغا مجتبیٰ کا رد عمل

بڈگامجموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے محرم تقریبات کا سلسلہ جاری ہیں آٹھویں محرم کو جن مقامات پر جلوس عزا برآمد کئے گئے ان میں پالربڈگام، خانہ پورہ بڈگام ،ملک گنڈ چھترگام ، آستان پورہ اسکندرپورہ کھاگ، پارس آباد ،اوڑورہ، بوگہ چھل ، آستان شریف دوین چاڑورہ ،  مدین صاحب،گلشن باغ  بوٹہ کدل سرینگر،کنہ ستھو محلہ اوڑینہ سوناواری ، گگلو محلہ نوروز محلہ ذالپورہ ، جنکشن محلہ،سادات محلہ سونہ برن ، بونہ محلہ اندرکوٹ سوناواری ،مقدم محلہ، کھنہ پیٹھ ، اوچھلی پورہ،زاڈی محلہ پٹن، کانلو شامل ہیں مدین صاحب جڑی بل میںذوالجناح شریف کا جلوس بر آمد کیا گیا حجت الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی نے جلوس ذوالجناح میں شرکت کی عزادروں  سے خطاب کرتے ہوئے آغا مجتبیٰ نے سانحہ کربلا کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی اس موقعہ پر آغا مجتبیٰ نے افغانستان کی راجدھانی کابل میں شیعہ ہزارا برادری پر دہشتگردانہ حملے کی شدیدالفاظ میں مذمت کی انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کی تشکیل کے بعد شیعہ مسلمانوں پر دہشتگردانہ حملوں کا ایک لامتنا عی سلسلہ جاری ہے طالبان حکومت شیعہ براداری کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی یہ تشویش اور تحفظات سچ ثابت ہو رہے ہیں کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاکے بعد افغانستان دہشتگردی کی محفوظ پناہ گاہ بن جائے گی آغا مجتبیٰ نے اس سانحہ میں شہید افراد کو خراج عقیدت اور لواحقین سے تعزیت کی دریں اثنا لال چوک سرینگر میں عزاداروں پر پولیس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے آغا مجتبیٰ نے کہا کہ آٹھ محرم الحرام کے جلوس علم شریف اور تاریخی جلوس عاشورہ پر قدغن کو امن و قانون کے ساتھ جوڑنا سراسر غیر منطقی ہے جب کہ پوری وادی میں محرم جلوس امن و امان کے ساتھ برآمد ہو رہے ہیں ۔پالر بڈگام اور خان پورہ بڈگام میں علم شریف کے جلوسوں میں ایڈوکیٹ آغا سید منتظر مہدی الموسوی الصفوی نے شرکت کی اور سانحہ کربلا پر اظہار خیال کیا.
دوسری جانب حجت الاسلام آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی نے تاریخی جلوس عاشورہ پر قدغن کے حوالے سے عدالت عالیہ کے ریمارکس پر حکومت کی غیر سنجیدگی اور سرد مہری پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ تاریخی جلوس عاشورہ پر پابندی کو امن و قانون کے ساتھ جوڑنے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
آغا مجتبیٰ نے کہا کہ ریاستی ہائی کورٹ میں انہوں نے انجمن شرعی شیعیان کی طرف سے ایک عرضی دائر کی تھی جس پر شنوائی ہوئی اور عدالت عالیہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مذہبی رسومات کی ادئیگی اور امن و قانون دونوں ضروری اور ناگزیر ہے حکومت اس معاملے کو صرف امن و قانون کی نگاہ سے دیکھتی ہے جب کہ مذہبی رسومات کی ناگزیریت کو سرے سے ہی صرف نظر کیا جا رہا ہے حالانکہ امن و قانون کے حوالے سے بھی کوئی مسلہ درپیش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی کے اطراف و اکناف میں بلکہ لال چوک کے بلکل قریب کئی علاقوں میں محرم جلوسوں کی پر امن بر آمدگی کا سلسلہ سال ہا سال سے جاری ہے صرف ان تاریخی جلوسوں کے ساتھ امن و قانون کا معاملہ جوڑ کر بہانہ بازی کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔