انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سےحوزہ علمیہ میرگنڈ بڈگام میں تیسری بین المذاہب کانفرنس، وادی کشمیر میں انسانی اخوت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی آبیاری کا تجدید عہد

بڈگام/ جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے حوزہ جامعہ باب العلم میر گنڈ بڈگام کے کانفرنس ہال میں عید میلاد النبی ؐ کے مناسبت سے بین المذاہب "محسن انسانیت کانفرنس” تنظیم کے صدر و شعبہ بین المذاہب کے بانی حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔

کانفرنس کی نظامات توفیق حسین ملک نے کی جب کہ تلاوات کلام پاک کی سعادت قاری قمر علی صوفی نے حاصل کی، مزمل حسین نے بارگاہ رسالت ؐ میں ہدیہ نعت پیش کیا۔

کانفرنس میں مختلف مذاہب اور مسالک سے وابستہ معززین نے شرکت کی اور محسن انسانیت جناب محمد مصطفیٰ ؐ کی انسانیت ساز سیرت کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی۔

جن معززین نے کانفرنس میں شرکت کی اور موضو ع کے مناسبت سے اظہار خیال کیا ان میں نمائندہ ولی فقیہ برائے فروغ اخوت بین المذاہب حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر مہدی علی زادہ موسوی، نمائندہ میرواعظ کشمیر مولانا سید شمس الرحمان، مولانا خورشید احمد قانونگو، نمائندہ امیر کاروان اسلامی ڈاکٹر قادر جیلانی، عیسائی مذہب کے پاسٹر پال و جان فلپس، امام خمینی ؒ ٹرسٹ کرگل کےنائب صدر حجت الاسلام والمسلمین شاکری صاحب، گورودواراپربند ک کمیٹی کشمیر کے ہربنس سنگھ، ہندو دھرم سے تعلق رکھنے والے مہیت بھان، ڈاکٹر محمد معروف شاہ، پروفیسر محمد زمان آزوردہ، پروفیسر ارشد عزیز وغیرہ شامل ہیں، جبکہ میرواعظ کشمیر و صدر مجلس متحدہ علما جناب ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق، حجت الاسلام والمسلمین علامہ امین شہیدی صاحب، چیئرمین سیو شارداکمیٹی رویندر پنڈتا، معروف کالم نگار سدھیندرا کلکرنی نے ویڈیو پیغامات کے ذریعہ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

ایڈوکیٹ منتظر مہدی الموسوی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا، انجمن شرعی شیعیان کے شعبہ تبلیغ سے منسلک کئی علمائے دین اور ائمہ جمعہ بھی کانفرنس میں موجود تھے۔

کانفرنس کے اختتام پر ایک متفقہ قرار داد پاس کی گئی جس کی حاضرین نے بھر پور تائید کی، قرار داد میں کہا گیا کہ یہ کانفرنس محسن انسانیت پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد مصطفیٰ ؐ کی انسانیت ساز سیرت کو نمونہ عمل بنا کر وادی کشمیر میں انسانی اقدار، انسانی اخوت اور فرقہ وارانہ رواداری کو فروغ دینے میں اپنا موثر کردار ادا کرتی رہے گی اور ان تمام محرکات کے سد باب کے لئے کام کرے گی جو کشمیر میں آپسی بھائی چارے اور اتحاد بین المذاہب کے نصب العین کو زک پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔

وادی کشمیر میں شراب کی آزادانہ خرید و فروخت کے حکومتی فیصلے کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے قرارداد میں کہا گیا کہ یہ حکومتی اقدام کشمیر کی نوجوان نسل کے مستقبل کو تباہ و برباد کرنے اور یہاں انسانی غیرت و شرافت کی بیخ کنی کی ایک دانستہ کوشش ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ وادی کشمیر میں محراب و منبر کو خاموش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، میرواعظ اور صدر متحد مجلس علما ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی سالہاسال سے خانہ نظر بندی اور موصوف کو اپنے فرائض منصبی سے روکنے کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے موصوف کی خانہ نظر بندی کو بلاتاخیر ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا گیا اور ان مقتدر مولوی صاحبان کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا گیا، جنہیں حال میں نظر بند کیا گیا۔

قرارداد میں شاردا پیٹھ نیلم ویلی مظفر آباد کو عقیدت مندوں کے لئے کھولنے اور وہاں تک رسائی کے لئے سہولیات کا مطالبہ کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔