امیرالمومنین حضرت علی ؑ کے یوم شہادت کے موقعہ پر انجمن شرعی کے دینی اجتماعات

سرینگر/9جولائی2015/ امیرالمومنین حضرت علی ابن ابیطالبؑ کے یوم شہادت کے موقعہ پر جموں کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے حسب عمل قدیم وادی بھرمیں مجالس عزا کا انعقاد کیا گیا۔ اس سلسلے کے مرکزی اجتماعات مرکزی امام باڑہ بڈگام اور قدیمی امام باڑہ حسن آباد سرینگر میں منعقد ہوئے جن میں وادی کے اطراف و اکناف سے آئے ہوئے دسیوں ہزار عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ مرکزی اما م باڑہ بڈگام میں عقیدت مندوں کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ حجة الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے خلیفہ رسول حضرت علی المرتضیٰ ؑ کے سیرت و کردار کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ مولا علیؑ نے دعوت اسلام اور نصرت رسول کے حوالے سے جو کارہائے نمایاں انجام دئے وہ اسلام کی درخشندہ تاریخ میں عزیمت کے ابواب کی حیثیت سے رہتی دنیاتک علیؑ کی عظمت اور لاثانیت کا ڈنکا بجاتے رہیں گے۔ آغا صاحب نے کہا کہ علیؑ اسلام کی سربلندی اور اتحاد امت کے بے بدل نمونہ عمل ہیں جنہوں نے نہایت سخت ترین حالات کے ساتھ سمجھوتہ کیا لیکن اسلام اور امت مسلمہ کی سربلندی پر کوئی آنچ آنے نہ دی۔ حضرت علیؑ کی شہادت کے اسباب و عوامل کی وضاحت کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ علیؑ ایک ایسے گروہ کی منصوبہ بندیوں کے نتیجے میں درجہ شہادت پر پہنچائے گئے جس گروہ کے افکار و نظریات کسی بھی طور پر قرآن و سنت سے مطابقت نہیں رکھتے تھے بلکہ یہ گروہ اسلام کی خود ساختہ تفسیر و تاویل کرکے مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کے درپے تھا۔ اس وقت بھی دنیائے اسلام میں ایسی ہی ذہنیت کی انتہا پسند جماعتیں سرگرم عمل ہیں جن کے سیاہ کارنامے اسلام اور مسلمین کی رسوائی کا باعث بن رہی ہے اور صورتحال کا المناک پہلو یہ ہے کہ دنیا کی اسلام مخالف قوتیں ان دہشتگردوں کے پشت پر ہیں ۔ آغا صاحب نے فلسطین ،عراق، یمن، شام، بحرین ، برما ، افغانستان ، پاکستان اور کشمیر میں نہتے عوام کے قتل عام کی مذمت کی۔انہوں یمن کے بے بس عوام پر تین ماہ سے جاری خونین فضائی جارحیت پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کو دنیائے اسلام میں دینی و سیاسی بیداری کی ہمہ گیر تحریک کے خلاف یہود و نصاریٰ کی منصوبہ بندیوں کا شاخسانہ قرار دیا۔ اس موقعہ پر آغا صاحب نے 13 جولائی 1931 ءکے شہیدوں کو عقیدت کا خراج نذرکرتے ہوئے کہا کہ ان شہدا کی قربانیاں اگر چہ ریاست میں شخصی راج کے خاتمے پر منتج ہوئی لیکن ریاست سے شخصی راج کے خاتمے کے ساتھ ہی کشمیر ی قوم کو غلامی کی زنجیریں پہنائی گئیں ۔ اس طرح ان شہدا کا مشن تشنہ تکمیل رہا۔ انہوں نے کہا جملہ شہدائے کشمیر کے مشن کی تکمیل کیلئے جدوجہد کا تسلسل مس 191لہ کشمیر کے مستقل حل تک ہر حال میں جاری رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔