آیت اللہ العظمٰی صافی گلپایگانی کی وفات پر آغا سید حسن کا تعزیتی پیغام

مرجع عالیقدر، حضرت آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپایگانی کی وفات پر جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر، حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے تسلیتی پیغام جاری کیا ہے جس کا متن مندرجہ ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انا للہ و انا اليہ راجعون

بزرگ شخصیت، عالیقدر فقیہ اور ولائی مرجع تقلیدحضرت آيت اللہ العظمي آقاي حاج شيخ علي صافي لقاء اللہ کی طرف سفر کرگئے، جنہوں نے تقریبا ایک صدی کے عرصے تک اسلام کی خدمت کی اور کلمۂ دین کی ترقی کے لئے جد و جہد کرتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر کار بند رہے، مختصر یہ کہ وہ حضرت بقيۃ اللہ مولانا المہدي ارواح العالمين لہ الفدا کے مخلص نوکر تھے اور اسی عنوان سے انہوں نے اپنے فرائض سرانجام دیئے.

اس نیک سیرت عالم دین نے رضاخانی آمریت کے زمانے سے اپنے علمی سفر کا آغاز کیا اور سطوح عالیہ تک اپنے آبائی شہر گلپائگان میں تعلیم حاصل کی اور 1349 ہجری کوانہوں نے قم کی جانب ہجرت کی اور بزرگ علماء اور اساتذہ کے دروس میں حاضر ہوئے جو فقہ کی نامور شخصیات ہیں جیسے بزرگ مراجع تقلید مرحوم آيت اللہ العظمي حجت اور مرحوم آيت اللہ العظمي آقاي حاج سيد محمد تقي خوانساري سے فیض حاصل کیا اور جب آیت اللہ العظمی سید حسین بروجردی قم تشریف لائے تو انھوں نے ان کے فقہ اور اصول کے دروس میں شرکت کی اور استفتاء کے اجلاسوں میں باقاعدہ شرکت کیا کرتے تھے اور آیت اللہ العظمی بروجردی ان کی آراء کو خاص توجہ دیا کرتے تھے اور درس و بحث کی محفل میں مشہور و معروف اور جانے پہچانے تھے۔

آپ نے متعدد کتابیں لکھیں جیسے: شرح عروة الوثقي اور اساتذہ کے دروس کی تقریرات ان کی اہم علمی کاوشیں ہیں، باذوق ادیب تھے اور مختلف فضائل سے لیس تھے اور خاص طور پر قرآن مجید کے مفسر تھے اور ان تمام اوصاف سے متصف تھے جو ایسے فقیہ کے لئے ضروری ہیں اور انھوں نے اپنی حیات شریفہ کے آخری ایام تک محراب و منبر سے مسلمانوں کی ہدایت و راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیا اور رضاخان کے اسلام مخالف اقدامات کے خلاف ان کا موقف نہایت شفاف اور مستحکم تھا.

شجاعت، لہجے کی صراحت اور غیر اللہ سے بے‌باکي اور بےخوفی اور زہد و قناعت ث دنیاوی چمک دمک سے بے ‌اعتنايي اور دین کے امور میں استقامت ان کی خاص صفات ہیں اور اس دانا فقیہ کی تاريخ زندگي پوری، درس و عبرت ہے. انھوں نے تمام امور میں خدا کو خلق خدا پر ترجیح دی اور کسی کی رضا کو خدا کی رضا پر مقدم نہ رکھا اور کبھی بھی کلمۂ حق کے اظہار میں ہچکچاہٹ اور خوف و ہراس کا شکار نہیں ہوئے حتی کہ وہ بزرگوں کو بھی وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے اور وہ بھی ان کی نصیحتوں اور یادآوریوں کو غنیمت سمجھتے تھے.

بے شک ایسی شخصیت کا فقدان فقاہت، مرجعیت اور علمی حوزات کے لئے ایک ثلمہ اور دراڑ ہے. ہم اس عظیم نقصان کی مناسبت سے حضرت ولي عصر ارواح العالمين لہ الفدا، حوزات علمیہ، علمائے اعلام اور آيات عظام دامت برکاتہم اور مرحوم کے علمی گھرانے کو تعزیت و تسلیت عرض کرتے ہیں۔

زاد اللہ في علوّ درجاتہ و حشرہ مع ساداتہ الطيبين محمد و آلہ الطاہرين صلوات اللہ عليہم اجمعين.

آغا سید حسن الموسوی الصفوی، صدر انجمن شرعی شیعیان جموں وکشمیر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔